تحریر: سیدحاجب حسن
سوڈان کی ریاست جنوبی کردفان میں فوج کے زیرِ کنٹرول قصبے کلوگی پر نیم فوجی دستوں کے حالیہ ڈرون حملے میں ایک کنڈرگارٹن اور ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت درجنوں عام شہری ہلاک ہو گئے۔ یہ ہولناک واقعہ جمعرات کو پیش آیا۔
کلوگی انتظامی یونٹ کے سربراہ عصام الدین السید نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تین حملے کیے گئے: “پہلے کنڈرگارٹن، پھر ایک ہسپتال اور تیسری بار جب لوگ بچوں کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔”
فوج سے منسلک وزارتِ خارجہ نے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 79 بتائی ہے، جن میں 43 بچے شامل ہیں۔
قوام متحدہ کے بچوں کے ادارے (یونیسیف) نے کہا کہ حملے میں پانچ سے سات سال کی عمر کے 10 سے زیادہ بچے جاں بحق ہوئے۔ یونیسیف کے نمائندے نے اس واقعے کو “بچوں کے حقوق کی خوفناک خلاف ورزی” قرار دیا۔
ذمہ داری کا الزام اور پس منظر
عصام الدین السید نے حملے کا الزام ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) اور اس کی اتحادی تنظیم سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ-شمالی دھڑا (SPLM-N) پر لگایا، جو جنوبی کردفان اور بلیو نیل ریاست کے بڑے حصوں کو کنٹرول کرتا ہے۔
سوڈانی فوج اور RSF کے درمیان اپریل 2023 سے جاری تنازع میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔
RSF نے مغربی سوڈان میں فوج کے آخری گڑھ الفاشر پر قبضے کے بعد تیل سے مالا مال کردفان کے علاقے میں اپنی پیش قدمی تیز کر دی ہے۔ شمالی کردفان کے شہر بارا پر RSF کے قبضے کے بعد اقوام متحدہ نے کم از کم 269 شہریوں کی ہلاکتیں ریکارڈ کی ہیں۔
انسانی حقوق کمشنر کا انتباہ: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر وولکر ترک نے کردفان میں “مظالم کی ایک اور لہر” کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “الفاشر میں ہونے والے خوفناک واقعات کے فوراً بعد کردفان میں تاریخ کا خود کو دہرانا صدمے کا باعث ہے۔”
متضاد الزامات
کلوگی پر حملے کے بعد فوج اور RSF نے ملک بھر میں ہونے والے دیگر ڈرون حملوں پر ایک دوسرے پر الزامات لگائے ہیں۔
RSF نے فوج پر چاڈ کی سرحد پر واقع اہم انسانی امداد اور تجارتی راستے ادرے پر ڈرون حملہ کرنے کا الزام لگایا، جس کا مقصد امداد کو روکنا تھا۔ فوج نے اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے بھی شمالی دارفور میں اس کے ایک ٹرک پر حملے کی اطلاع دی، جو الفاشر سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کو خوراک پہنچا رہا تھا۔
