عالمی معیشت اب بھی فطرت کی بحالی کے بجائے تباہی پر سرمایہ کاری کر رہی ہے: اقوام متحدہ

Editor News

نیویارک/نیروبی(شمائلہ): اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی معیشت کا رخ اب بھی قدرت کی بحالی کے بجائے اس کی بربادی کی طرف ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ معیشت اور فطرت کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے پالیسیوں میں فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق قدرت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے شعبوں میں توانائی، صنعت، بجلی و گیس (utilities) اور تعمیرات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتوں کی جانب سے دی جانے والی وہ سبسڈیز جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں، خاص طور پر فاسل فیول (تیل و گیس)، زراعت، ٹرانسپورٹ اور پانی کے شعبوں میں، اس تباہی کو ہوا دے رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ماحولیاتی سربراہ انگر اینڈرسن کا کہنا ہے:”اگر آپ پیسے کا پیچھا کریں تو چیلنج کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے۔ ہمارے پاس اب صرف دو ہی راستے ہیں: یا تو ہم فطرت کی تباہی میں سرمایہ کاری جاری رکھیں یا اس کی بحالی کا ذریعہ بنیں، اب کوئی درمیانی راستہ باقی نہیں رہا۔”

رپورٹ میں سال 2023 کے دوران ہونے والی سرمایہ کاری کا موازنہ کیا گیا ہے:

فطرت دشمن سرگرمیاں: 7.3 ٹریلین ڈالر (تقریباً 7300 ارب ڈالر) ایسی سرگرمیوں پر خرچ کیے گئے جو ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

فطرت دوست اقدامات: صرف 220 ارب ڈالر قدرتی حل (Nature-based solutions) پر لگائے گئے، جن میں زیادہ تر رقم عوامی ٹیکسوں سے آئی۔

مثبت رجحان: خوش آئند بات یہ ہے کہ 2022 کے مقابلے میں 2023 میں بائیو ڈائیورسٹی کے تحفظ پر اخراجات میں 11 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مصنفین نے “بگ نیچر ٹرن اراؤنڈ” (Big Nature Turnaround) کا وژن پیش کیا ہے، جس میں درج ذیل حل تجویز کیے گئے ہیں:

گرمی کی شدت (Heat-island effect) کم کرنے کے لیے شہری علاقوں میں شجرکاری۔

سڑکوں اور توانائی کے منصوبوں میں قدرتی عوامل کو شامل کرنا۔

تعمیرات کے لیے ایسے مواد کا استعمال جو کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مددگار ہوں۔

رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 2030 تک فطرت دوست سرمایہ کاری کو 2.5 گنا بڑھا کر 571 ارب ڈالر سالانہ تک لایا جائے تاکہ عالمی ماحولیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *