اقوامِ متحدہ کا اسرائیل کے یونروا کی تنصیبات کو بجلی و پانی بند کرنے کے اقدام کی شدید مذمت

یونروا غزہ، مغربی کنارے، اردن، لبنان اور شام میں لاکھوں فلسطینیوں کو تعلیم، صحت اور انسانی امداد فراہم کرتا ہے

Editor News

رائٹرز: اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بدھ کے روز اسرائیل کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے یونروا (UNRWA) کی ملکیت تنصیبات کو بجلی یا پانی کی فراہمی بند کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان کے مطابق اس اقدام سے ادارے کی سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات یونروا کی امدادی اور انتظامی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کے مراعات و استثنیٰ کے کنونشن کا اطلاق یونروا، اس کی املاک، اثاثوں اور عملے پر مکمل طور پر ہوتا ہے اور یونروا کی استعمال شدہ جائیداد ناقابلِ دست درازی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونروا اقوامِ متحدہ کا ایک لازمی اور اہم ادارہ ہے۔

یونروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے بھی اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام یونروا کو بدنام کرنے اور فلسطینی مہاجرین کے لیے اس کے امدادی کردار میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک منظم مہم کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ 2024 میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت یونروا کو اسرائیل میں کام کرنے سے روک دیا گیا اور سرکاری حکام کو ادارے سے کسی بھی قسم کے رابطے سے منع کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد یونروا مشرقی یروشلم میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جسے اقوامِ متحدہ اسرائیلی قبضے کا علاقہ قرار دیتی ہے، جبکہ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔

یونروا غزہ، مغربی کنارے، اردن، لبنان اور شام میں لاکھوں فلسطینیوں کو تعلیم، صحت اور انسانی امداد فراہم کرتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ادارے کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں تاہم غزہ جنگ کے آغاز کے بعد یہ کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، اور اسرائیل بارہا یونروا کو ختم کرنے اور اس کی ذمہ داریاں دیگر اقوامِ متحدہ کے اداروں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

یونروا کو بنیادی سہولیات کی فراہمی روکنے کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے غزہ میں کام کرنے والی درجنوں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی سرگرمیاں بھی معطل کر دی ہیں، جن پر نئے قوانین کے تحت جانچ پڑتال کے تقاضے پورے نہ کرنے کا الزام ہے۔

اس حوالے سے کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ نے ایک مشترکہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی این جی اوز کی سرگرمیاں بند ہونے سے غزہ میں بنیادی خدمات، خصوصاً صحت کی سہولیات، شدید متاثر ہوں گی۔ بیان کے مطابق اگر این جی اوز نے کام بند کیا تو غزہ میں ہر تین میں سے ایک طبی مرکز بند ہو سکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *