نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس امریکی اقدام کو عالمی تعلقات میں ایک “خطرناک مثال” قرار دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ ہنگامی اجلاس روس اور چین کی حمایت سے کولمبیا کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔ صومالیہ، جو جنوری کے مہینے کے لیے سلامتی کونسل کا صدر ہے، اس اجلاس کی صدارت کرے گا۔ اجلاس کا عنوان “عالمی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات” رکھا گیا ہے۔
وینزویلا کے مستقل مندوب سیموئل مونکاڈا نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں اس کارروائی کو ایک “استعماری جنگ” قرار دیا جس کا مقصد ایک آزاد جمہوریہ کو تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے امریکہ پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال سے روکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فوجی آپریشن کو “شاندار” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک وینزویلا میں اقتدار کی محفوظ اور مناسب منتقلی نہیں ہو جاتی، امریکہ اس ملک کا انتظام سنبھالے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ کئی مہینوں سے وینزویلا کی ساحلی پٹی پر منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے نام پر گھیرا تنگ کر رہی تھی، جس کا اختتام اس بڑے آپریشن پر ہوا۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے سیکرٹری جنرل کی جانب سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی قوانین کا احترام سب پر لازم ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ اس کارروائی میں بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھا گیا ہے، جس کے پورے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
