نیویارک (ویب ڈیسک) نیویارک سٹی کے نئے میئر زہران ممدانی نے گورنر کیتھی ہوچول کے ریاستی بجٹ میں انکم ٹیکس نہ بڑھانے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بڑے کارپوریشنز اور امیر ترین افراد پر ٹیکسوں میں اضافے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ممدانی کا کہنا ہے کہ شہر کو درپیش مالیاتی بحران سے نکالنے کے لیے “امیروں کا اپنا جائز حصہ ادا کرنا” ضروری ہے۔
منہٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میئر ممدانی نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نیویارک کے منافع بخش اداروں اور امیر ترین رہائشیوں پر ٹیکس بڑھانے کی بھرپور وکالت کرے گی۔ ان کے ایجنڈے میں شامل اہم نکات درج ذیل ہیں:
مفت بس سروس: عوامی نقل و حمل کو شہریوں کے لیے مفت بنانا۔
ٹیکسوں میں حصہ داری: میئر کا کہنا ہے کہ نیویارک شہر ریاست کی کل ٹیکس آمدنی میں 54.5% حصہ ڈالتا ہے، لیکن بدلے میں اسے صرف 40.5% واپس ملتا ہے۔
ممدانی نے شہر کو درپیش 12.6 بلین ڈالر کے بجٹ خسارے کا ذمہ دار سابق میئر ایرک ایڈمز کی “بدانتظامی” کو قرار دیا ہے۔
دوسری جانب گورنر کیتھی ہوچول نے 260 بلین ڈالر کا بھاری بجٹ پیش کیا ہے جس میں یونیورسل پری-کے (Universal Pre-K) جیسا بڑا منصوبہ بھی شامل ہے۔ گورنر کا موقف ہے کہ:
وہ فی الحال ٹیکسوں میں اضافے کے حق میں نہیں ہیں اور اسے “آخری حربے” کے طور پر دیکھتی ہیں۔
وہ اپنی پارٹی کے بائیں بازو (لبرل) اور معتدل دھڑوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ان کے بجٹ ڈائریکٹر بلیک واشنگٹن کے مطابق، گورنر کا مقصد شہریوں پر بوجھ ڈالے بغیر نظام چلانا ہے۔
زوہران ممدانی، جنہوں نے حال ہی میں میئر کا عہدہ سنبھالا ہے، ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی کامیابی کو ایک بڑے سیاسی الٹ پھیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب وہ گورنر ہوچول پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ اپنی پالیسیوں کو لبرل حامیوں کی امنگوں کے مطابق ڈھالیں۔
گورنر ہوچول کو پہلے ہی اپنی پارٹی کے اندر سے لیفٹیننٹ گورنر انتونیو ڈیلگاڈو اور اپوزیشن میں ریپبلکن رہنما بروس بلیک مین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے، جو انہیں “لبرل گروپ کے زیر اثر” قرار دے رہے ہیں۔
