نیویارک(ویب ڈیسک): جیف بیزوس کی خلائی کمپنی بلو اوریجن نے اپنے میگا راکٹ نیو گلین کی تیسری پرواز کے لیے فروری کے آخر کو ہدف بنا لیا ہے، تاہم اس بار راکٹ چاند کی جانب روانہ نہیں ہوگا جیسا کہ پہلے عندیہ دیا گیا تھا۔
بلو اوریجن کے مطابق نیو گلین اس مشن میں اے ایس ٹی اسپیس موبائل کا ایک سیٹلائٹ زمین کے نچلے مدار (لو ارتھ آربٹ) میں لے جائے گا۔ یہ دوسرا موقع ہوگا کہ نیو گلین کے ذریعے کسی تجارتی پے لوڈ کو خلا میں بھیجا جائے گا۔
کمپنی نے فوری طور پر اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس نے اپنے روبوٹک قمری لینڈر کے بجائے اے ایس ٹی اسپیس موبائل کے سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ بلو اوریجن کا قمری لینڈر بلو مون مارک ون (MK1) اس وقت ٹیکساس میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں اس پر ویکیوم چیمبر ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ اس مشن کی لانچ تاریخ تاحال طے نہیں کی گئی۔
یہ نیو گلین کی ایک سال سے کچھ زائد عرصے میں تیسری پرواز ہوگی، جبکہ اس راکٹ کی تیاری میں کمپنی کو تقریباً ایک دہائی لگی ہے۔
فروری کا مہینہ خلائی سرگرمیوں کے لحاظ سے خاصا مصروف رہنے کی توقع ہے۔ ناسا 6 فروری کے قریب آرٹیمس ٹو مشن لانچ کر سکتا ہے، جس میں چار خلا نورد چاند کا مدار مکمل کریں گے۔ اس کے علاوہ اسپیس ایکس اپنے اسٹارشپ راکٹ کے تیسرے ورژن کی آزمائش شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ ناسا اور اسپیس ایکس مل کر کریو-12 مشن بھی لانچ کریں گے، جس کا مقصد انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو مکمل عملے کے ساتھ دوبارہ فعال بنانا ہے۔
اس مشن میں بلو اوریجن نیو گلین کی دوسری پرواز میں استعمال ہونے والے بوسٹر اسٹیج کو دوبارہ استعمال کرے گی، جسے گزشتہ نومبر میں کامیابی سے سمندر میں موجود ڈرون شپ پر اتارا گیا تھا۔ یہ طریقہ کار اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کی طرز پر ہے۔
نیو گلین بلو اوریجن کا پہلا راکٹ ہے جو زمین کے مدار اور اس سے آگے باقاعدگی سے پے لوڈ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ کمپنی کے ذیلی مداری راکٹ پروگرام نیو شیپرڈ کی کامیابیوں پر مبنی ہے، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے فعال ہے۔
بلو اوریجن نے اے ایس ٹی اسپیس موبائل کے ساتھ معاہدہ بھی کر رکھا ہے، جس کے تحت متعدد سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جائیں گے تاکہ خلا پر مبنی موبائل براڈ بینڈ نیٹ ورک قائم کیا جا سکے۔
تاہم نیو گلین کمپنی کے وسیع تر منصوبوں کا صرف ایک حصہ ہے۔ گزشتہ نومبر میں بلو اوریجن نے نیو گلین کے ایک سپر ہیوی ورژن کا انکشاف کیا تھا جو قد میں سیٹرن فائیو راکٹ سے بھی بلند ہوگا اور اسپیس ایکس کے اسٹارشپ کے ہم پلہ ہوگا۔
اسی طرح کمپنی نے بدھ کے روز ٹیرا ویو کے نام سے ایک سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک کا بھی اعلان کیا ہے، جس کی تنصیب 2027 کے آخر تک شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔
بلو اوریجن مستقبل میں اپنے بلو مون لینڈرز کو چاند اور مریخ کے مشنز میں استعمال کرنے کی امید رکھتی ہے، جبکہ ایک اور خلائی پلیٹ فارم بلو رنگ پر بھی کام جاری ہے، جو دیگر خلائی کمپنیوں کے پے لوڈز کو لے جانے اور خلا میں تعینات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
