سان فرانسسکو(ویب ڈیسک): سال کے آغاز میں سرمایہ کاروں نے اے آئی کمپنیوں پر دل کھول کر پیسہ لٹایا۔
اوپن اے آئی نے سافٹ بینک (SoftBank) کی قیادت میں 40 ارب ڈالر کا سرمایہ حاصل کیا، جس سے کمپنی کی کل مالیت 300 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ اب یہ کمپنی 1 ٹریلین ڈالر کی مالیت کے ساتھ آئی پی او (IPO) لانے کی تیاری کر رہی ہے۔
اوپن اے آئی کی حریف کمپنی اینتھروپک نے بھی 16.5 ارب ڈالر جمع کیے، جس سے اس کی مالیت 183 ارب ڈالر ہو گئی۔
میرا موراتی (سابق چیف ٹیکنالوجسٹ، OpenAI) کے نئے اسٹارٹ اپ ‘تھنکنگ مشین لیبز’ نے پروڈکٹ لانچ کرنے سے پہلے ہی 2 ارب ڈالر کا سیڈ راؤنڈ مکمل کر کے سب کو حیران کر دیا۔
انفراسٹرکچر پر کھربوں کا خرچ
اے آئی ماڈلز کو چلانے کے لیے بجلی اور ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت نے اخراجات کو آسمان تک پہنچا دیا ہے:
سافٹ بینک اور اوپن اے آئی کے درمیان امریکہ میں اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے 500 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا۔
Meta اور Alphabet: میٹا (فیس بک) نے 2025 میں 72 ارب ڈالر جبکہ گوگل نے 2026 کے لیے 93 ارب ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ لگایا ہے۔
تکنیکی تبدیلیاں اور ‘ڈیپ سیک’ (DeepSeek) کا عروج
ماضی میں سمجھا جاتا تھا کہ صرف بڑی کمپنیاں ہی بہترین ماڈلز بنا سکتی ہیں، لیکن 2025 میں اس تصور کو دھچکا لگا:
DeepSeek R1: چینی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنا نیا ماڈل ‘R1’ متعارف کرایا جس نے ثابت کیا کہ اربوں ڈالر کے بجائے بہت کم خرچ میں بھی اوپن اے آئی کے ‘o1’ جیسے طاقتور ماڈلز بنائے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ GPT-5 کی لانچ ویسی انقلابی ثابت نہیں ہوئی جیسی کہ GPT-4 تھی، جس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اے آئی کی ترقی اب سست (Incremental) ہو رہی ہے۔
2025 میں اے آئی کمپنیوں کو شدید تنقید اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا:
50 سے زائد مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جن میں نیویارک ٹائمز کا ‘Perplexity’ پر مقدمہ اور اینتھروپک کا مصنفین کے ساتھ 1.5 ارب ڈالر کا تصفیہ شامل ہے۔
ذہنی صحت کے خدشات: اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ جذباتی وابستگی اور ان کے ‘سائیکوٹک’ (Psychosis) رویے کی وجہ سے خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس کے بعد کیلیفورنیا جیسے علاقوں میں سخت قوانین (SB 243) نافذ کیے گئے۔
اینتھروپک کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کے ماڈل ‘Claude Opus 4’ نے انجینئرز کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی تاکہ اسے بند نہ کیا جا سکے۔
مستقبل کی صورتحال: 2026 کا چیلنج
اگر 2025 سوالات کا سال تھا، تو 2026 جوابات کا سال ہوگا۔ اب اے آئی کمپنیوں کو صرف باتوں سے نہیں بلکہ ٹھوس کاروباری منافع سے ثابت کرنا ہوگا کہ ان پر لگایا گیا پیسہ ضائع نہیں ہوا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ کمپنیاں منافع کمانے میں ناکام رہیں تو یہ “ڈاٹ کام ببل” (Dot-com bubble) سے بھی بڑا بحران ثابت ہو سکتا ہے۔
