پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کا امریکی صدر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا اعلان

اب تک چند ممالک، جن میں ہنگری، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، بغیر کسی تحفظات کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر چکے ہیں۔

Editor News

ڈیووس(ویب ڈیسک): پاکستان اور سات دیگر مسلم اکثریتی ممالک نے بدھ کے روز ایک مشترکہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

مشترکہ بیان کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنے رہنماؤں کو دی گئی دعوت کا خیرمقدم کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے اپنے ممالک کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ ہر ملک اپنی متعلقہ قانونی اور دیگر ضروری کارروائیوں کے مطابق شمولیتی دستاویزات پر دستخط کرے گا، جن میں مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، جو پہلے ہی شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہ تمام آٹھ ممالک گزشتہ سال اکتوبر میں صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کے خاتمے کے منصوبے پر کام کر چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز جبکہ پاکستان اور مصر نے بدھ کے روز بورڈ میں شمولیت کا اعلان کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی قیادت میں جاری امن کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور بورڈ آف پیس کے مشن پر عمل درآمد کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ بیان کے مطابق بورڈ آف پیس کو عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرنا ہے، جیسا کہ غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں توثیق کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس منصوبے کا مقصد مستقل جنگ بندی کو مستحکم کرنا، غزہ کی تعمیرِ نو میں معاونت فراہم کرنا، اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کو فروغ دینا ہے، تاکہ خطے کے تمام ممالک اور عوام کے لیے سلامتی اور استحکام کی راہ ہموار ہو۔

ادھر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے غزہ میں امن کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے برادر عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں دیرپا امن اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کام کرتا رہے گا۔

یہ پیش رفت اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جس میں دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان نے غزہ میں دیرپا امن کے حصول کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ دعوت گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف کو دی گئی تھی۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کی حمایت کے لیے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے قیام سے مستقل جنگ بندی، فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد میں اضافے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

دفتر خارجہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی تکمیل کا باعث بنیں گی، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار اور مربوط فلسطینی ریاست قائم ہو سکے گی، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ پاکستان بورڈ آف پیس کے رکن کے طور پر ان مقاصد کے حصول اور فلسطینی عوام کی تکالیف کے خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال ستمبر میں غزہ تنازع کے خاتمے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بورڈ آف پیس کے قیام کی تجویز دی تھی۔ تاہم گزشتہ ہفتے عالمی رہنماؤں کو بھیجی گئی دعوت میں اس ادارے کے عالمی تنازعات کے حل میں وسیع کردار کا خاکہ پیش کیا گیا۔

رائٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 60 ممالک کو بھیجے گئے مسودہ چارٹر میں کہا گیا ہے کہ بورڈ کی رکنیت تین سال سے زیادہ برقرار رکھنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی مالی شراکت درکار ہوگی۔

دعوت نامے میں شامل چارٹر پر بعض یورپی ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جن کا خیال ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے، جس پر صدر ٹرمپ پہلے ہی تنقید کرتے رہے ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ بورڈ آف پیس کو ایک مستقل عالمی ادارے میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر کام کر سکے۔

چارٹر کے مطابق بورڈ کو ایک زیادہ مؤثر اور متحرک عالمی امن ساز ادارے کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے، جس کی صدارت خود صدر ٹرمپ کریں گے۔ ابتدا میں بورڈ غزہ تنازع پر توجہ دے گا، بعد ازاں اسے دیگر عالمی تنازعات تک وسعت دی جائے گی۔

مسودہ چارٹر صدر ٹرمپ کو وسیع انتظامی اختیارات دیتا ہے، جن کے تحت وہ غیر معینہ مدت تک چیئرمین رہ سکتے ہیں، جبکہ ان کے فیصلوں پر مؤثر ویٹو پاور بھی حاصل ہوگی۔

اب تک چند ممالک، جن میں ہنگری، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، بغیر کسی تحفظات کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *