اسلام آباد: پاکستان اور امریکہ نے نیویارک کے قلب میں واقع پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کے قیمتی اثاثے، روزویلٹ ہوٹل کی تعمیرِ نو، مرمت اور آپریشنز کے لیے ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس اہم منصوبے کا مقصد ہوٹل کی عالمی قدر میں اضافہ کرنا اور پاک-امریکہ معاشی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہے۔
اس تزویراتی تعاون کو ایک مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے ذریعے حتمی شکل دی گئی ہے۔
پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب کریں گے
جبکہ امریکہ کی نمائندگی جی ایس اے (GSA) کے ایڈمنسٹریٹر ایڈورڈ سی فورسٹ کو دی گئی ہے۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اس تقریب کے گواہ بنے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری، محمد علی نے واضح کیا ہے کہ حکومت روزویلٹ ہوٹل کو براہِ راست فروخت کرنے کے بجائے اس کی ترقیاتی نجکاری (Development-led Privatization) کی حکمتِ عملی اپنا رہی ہے۔
اسکا مقصد پی آئی اے کے اس اثاثے کی قیمت کو عالمی مارکیٹ کے مطابق زیادہ سے زیادہ بنانا۔
نیویارک کے پیچیدہ زوننگ قوانین اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی ہم آہنگی پیدا کی گئی ہے۔
معاہدے میں منصوبے کے تکنیکی، تجارتی اور اقتصادی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ایک وقت مقررہ (Time-bound) روڈ میپ طے کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دسمبر 2025 میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کر لیے ہیں۔ روزویلٹ ہوٹل کی بحالی اس بڑے نجکاری پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد خسارے میں چلنے والے قومی اثاثوں کو منافع بخش بنانا ہے۔
نیویارک کے علاقے مڈ ٹاؤن مین ہٹن میں واقع یہ پرتعیش ہوٹل 1924 میں کھولا گیا تھا اور اس کا نام امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اب یہ پراپرٹی نہ صرف مالی فائدہ فراہم کرے گی بلکہ بین الاقوامی رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں پاکستان کے پروفائل کو بھی بلند کرے گی۔
