پاکستانی پارلیمانی وفدواشنگٹن پہنچ گیا,اہم ملاقاتیں متوقع

رے برن میں ہونے والے آئی پی جی اجلاس کی میزبانی کانگریس مین ال گرین کریں گے

Editor News

واشنگٹن: سینیٹر بابر سراج خان ناصر کی قیادت میں پاکستانی پارلیمانی وفدواشنگٹن پہنچ گیا۔جہاں وہ امریکا کے قانون سازوں اور حکام سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کرے گا۔ یہ دورہ پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی نئی کوششوں کا حصہ ہے۔

وفد میں پاکستان کی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان شامل ہیں، جو پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ امریکا میں قومی مفادات کے فروغ میں ان کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

وفد مختلف فورمز میں شرکت کرے گا، جن کا آغاز بدھ کے روز رے برن ہاؤس آفس بلڈنگ میں انٹر پارلیمانی گروپ (IPG) کے اجلاس سے ہوگا۔ اس کے بعد نیشنل پریس کلب (NPC) میں پریس کانفرنس اور نیو جرسی میں سفارتی استقبالیہ منعقد کیا جائے گا۔

پاکستان پالیسی انسٹی ٹیوٹ امریکا (PPI-USA) کے چیئرمین ڈاکٹر غلام مجتبیٰ، جو اس دورے کے انتظامات میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، کے مطابق یہ ملاقاتیں پارلیمان سے پارلیمان کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے، ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط کرنے اور علاقائی استحکام و عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہیں۔

رے برن میں ہونے والے آئی پی جی اجلاس کی میزبانی کانگریس مین ال گرین کریں گے، جبکہ کانگریس مین رون ایسٹس کلیدی خطاب کریں گے۔ امریکا کی جانب سے شریک ہونے والوں میں کانگریس کے ارکان ٹام سوازی، لورا گلن اور جوش گوٹ ہائمر شامل ہیں۔

پاکستانی وفد کی جانب سے سینیٹر سلیم منڈوی والا، چیف وہپ سینیٹ، اور سینیٹر رانا محمود الحسن، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے کابینہ، امریکی قانون سازوں سے پارلیمانی تعاون، سلامتی، تجارت اور تارکینِ وطن کے ذریعے سفارتی روابط پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

ڈاکٹر غلام مجتبیٰ نے کہا کہ یہ مکالمہ ایک حساس علاقائی مرحلے پر ہو رہا ہے، جب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت عالمی سلامتی اور معاشی مفادات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں کے دوران پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت، جمہوری اقدار سے وابستگی اور پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کی خدمات کو نمایاں کیا جائے گا۔

نیشنل پریس کلب میں ہونے والی بریفنگ کے دوران وفد امریکی اور عالمی میڈیا کو پارلیمانی سفارت کاری، دوطرفہ تعلقات اور ممکنہ تعاون کے شعبوں پر آگاہ کرے گا۔ توقع ہے کہ بات چیت میں تجارت، سرمایہ کاری، انسداد دہشت گردی اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ڈائسپورا نیٹ ورکس کے کردار پر توجہ دی جائے گی۔

وفد اپنے دورے کا اختتام 24 جنوری کو کلِفٹن، نیو جرسی میں ایک استقبالیے سے کرے گا، جس میں امریکی قانون سازوں، شہر اور ریاستی حکام اور پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے ارکان شرکت کریں گے، تاکہ کمیونٹی سطح پر تعاون اور نجی شعبے کے روابط کو فروغ دیا جا سکے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *