واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی قانون (IEEPA) کے تحت عائد کردہ وسیع پیمانے پر عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بلاک کر دیا ہے۔ جمعہ کو سنائے گئے اس 6-3 کے فیصلے کو ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلے میں تحریر کیا کہ امریکی آئین کے مطابق ٹیرف اور ٹیکس لگانے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، صدر کے پاس نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض “ہنگامی صورتحال” کا حوالہ دے کر صدر اس قسم کے اختیارات اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے جو واضح طور پر قانون میں درج نہ ہوں۔
اکثریتی رائے: جسٹس جان رابرٹس (بشمول دیگر 5 جج)
اختلافی نوٹ: جسٹس کلیرنس تھامس، سیموئل الیٹو اور بریٹ کاوانا نے فیصلے سے اختلاف کیا۔
صدر ٹرمپ نے اپریل 2025 میں امریکی تجارتی خسارے کو “قومی ایمرجنسی” قرار دیتے ہوئے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کا سہارا لیا تھا۔ اس کے تحت انہوں نے “لیبریشن ڈے” (Liberation Day) ٹیرف کے نام سے بیشتر ممالک پر 10 فیصد عالمی ٹیرف اور بعض ممالک پر اضافی “باہمی” (Reciprocal) ٹیرف عائد کیے تھے۔
عدالت نے کہا کہ قانون میں “درآمدات کو ریگولیٹ” کرنے کا مطلب خود بخود “ٹیرف لگانا” نہیں ہے۔
درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ تجارتی خسارہ گزشتہ 50 سالوں سے ہے، لہذا اسے اچانک “غیر معمولی خطرہ” قرار دے کر ہنگامی قانون نافذ کرنا غلط ہے۔
اس فیصلے کے بعد حکومت کو اب تک جمع کیے گئے اربوں ڈالر کے ٹیرف واپس کرنے پڑ سکتے ہیں، جو ماہرین کے مطابق تقریباً 175 ارب ڈالر سے زائد ہو سکتے ہیں۔
