واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکا اس وقت شدید اور خطرناک سردیوں کے طوفان کی زد میں ہے، جس کے باعث مشرقی ساحلی علاقوں اور مڈویسٹ کے بڑے حصوں میں انتہائی سردی، بھاری برفباری اور منجمد بارش کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس طوفان سے 20 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی نیشنل ویدر سروس نے خبردار کیا ہے کہ موسمی حالات جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر جمعے سے شروع ہونے والے طوفان کے بعد کم از کم 16 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق میمفس، نیش وِل، واشنگٹن ڈی سی، بالٹی مور، فلاڈیلفیا اور نیویارک سمیت کئی بڑے شہر شدید برفباری کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ پیش گوئی میں کہا گیا ہے کہ کولوراڈو سے ویسٹ ورجینیا تک، جبکہ نیویارک سٹی اور بوسٹن میں بھی ایک فٹ یا اس سے زیادہ برف پڑنے کا امکان ہے۔ نیشنل ویدر سروس کا کہنا ہے کہ اس طوفان کے نتیجے میں سفری نظام درہم برہم ہو سکتا ہے، بجلی کی فراہمی طویل عرصے تک متاثر رہنے کا خدشہ ہے اور درختوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی راکی پہاڑوں اور قریبی میدانی علاقوں میں شدید برفباری متوقع ہے جو مڈ اٹلانٹک ریاستوں سے ہوتی ہوئی شمال مشرقی امریکا تک پھیل سکتی ہے۔ بعض علاقوں میں برف کی موٹائی 30 سینٹی میٹر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ نیو جرسی کے شمال مشرقی حصوں اور نیویارک کے جنوب مشرقی علاقوں، بشمول نیویارک سٹی، میں اتوار سے پیر تک 10 سے 14 انچ برف پڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ شدید سردی کے باعث ہوا کے ساتھ محسوس ہونے والا درجہ حرارت منفی 23 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔
جنوبی نیو انگلینڈ کے بیشتر علاقوں، جن میں بوسٹن بھی شامل ہے، میں 12 سے 17 انچ برفباری اور 30 میل فی گھنٹہ تک تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ وہاں سردی کی شدت منفی 26 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شمالی میدانی علاقوں میں سردی کے نئے ریکارڈ قائم ہو سکتے ہیں، جہاں ہوا کے ساتھ درجہ حرارت منفی 46 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکا کے جنوب مشرقی علاقوں کے ایک بڑے حصے میں بھی شدید سردی اور نقطہ انجماد سے کم درجہ حرارت متوقع ہے۔ حکام نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، احتیاطی تدابیر اپنانے اور موسمی صورتحال سے متعلق تازہ اطلاعات پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
