جنیوا: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں سڈنی کے علاقے بانڈی بیچ پر ہنوکا کی تقریب کے دوران ہونے والے حملے پر شدید صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ وہ اس واقعے پر “انتہائی خوفزدہ” ہیں۔
گوتریس نے کہا:“امن اور روشنی کی فتح کا جشن منانے والے تہوار ہنوکا کے پہلے دن، میرا دل دنیا بھر کی یہودی برادری کے ساتھ ہے۔”
آسٹریلوی حکام کے مطابق، ہنوکا کی تقریب کے دوران دو مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ حملے کے دوران ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام نے واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔
یہود دشمنی کے خلاف مذمت
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے اتوار کے روز جاری بیان میں کہا کہ سیکریٹری جنرل نے آسٹریلیا کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جبکہ ملک اور دنیا بھر کی یہودی برادری سے بھی ہمدردی کا اعلان کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے سربراہ ہر قسم کی یہود دشمنی کی بلا مشروط مذمت کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مذہبی برادریوں اور پُرامن تقریبات پر حملے رواداری، بقائے باہمی اور انسانی وقار کی بنیادی اقدار پر حملہ ہیں۔
اتحادِ تہذیبوں کا مؤقف
واقعے کے وقت سیکریٹری جنرل گوتریس سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں موجود تھے، جہاں وہ اقوام متحدہ کے 11ویں عالمی فورم برائے اتحادِ تہذیبوں (UNAOC) کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ اقدام 20 سال قبل مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان احترام اور باہمی سمجھ بوجھ کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
اتحادِ تہذیبوں کے ہائی نمائندے میگوئل آنخل موراتینوس نے بھی سوشل میڈیا پر حملے کو “انتہائی افسوسناک” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا:“میں متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔”
