نیویارک(ویب ڈیسک):اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سال 2026 میں عالمی معاشی ترقی کی رفتار 2.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو کہ 2025 (2.8 فیصد) اور قبل از وبا کی اوسط (3.2 فیصد) سے کم ہے۔
1. تجارت اور ٹیرف کے اثرات
امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں بڑے اضافے نے تجارتی تنازعات کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ فوری طور پر بین الاقوامی تجارت میں بڑا تعطل نہیں آیا، لیکن اس کے اثرات رواں سال زیادہ نمایاں ہوں گے۔
صارفین کی جانب سے خریداری اور افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی نے معیشت کو سہارا دیا ہے، لیکن بنیادی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔
3. مہنگائی اور خریداری کی طاقت
عالمی سطح پر افراطِ زر کی شرح 3.4 فیصد (2025) سے کم ہو کر 3.1 فیصد (2026) تک آنے کی توقع ہے۔
اقوامِ متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے باوجود، اشیاء کی قیمتیں اب بھی بہت زیادہ ہیں، جس سے غریب طبقے کی قوتِ خرید متاثر ہو رہی ہے۔
4. مصنوعی ذہانت (AI) اور سرمایہ کاری
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ AI کی وجہ سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے فوائد کی غیر مساوی تقسیم سے سماجی ڈھانچے میں ناہمواری پیدا ہو سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے میں اثاثوں کی حد سے زیادہ قیمتیں (Asset Valuations) معاشی خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ اور بڑھتے ہوئے قرضے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
رپورٹ میں “سیویلا کمٹمنٹ” (Sevilla Commitment) پر عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی جائیں اور ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے بوجھ سے نکال کر عالمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
