نیو یارک کے میئر زوہران ممدانی کی نئی چیف ایکویٹی افسر کے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس منظرِ عام پر

رپورٹس کے مطابق تقرری سے کچھ ہی دن قبل انہوں نے اپنا ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا،

Atif Khan

نیویارک: نیو یارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی کی جانب سے مقرر کی گئی نئی چیف ایکویٹی افسر افوا اتا-مینسا کی ماضی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تقرری سے کچھ ہی دن قبل انہوں نے اپنا ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا، جس پر لبرل سفید فام خواتین کے خلاف تنقیدی اور متنازع بیانات موجود تھے۔

نیو یارک پوسٹ کے مطابق افوا اتا-مینسا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر متعدد پوسٹس میں “کامرَیڈ” کا لفظ استعمال کیا اور ایسے بیانات کو ری ٹویٹ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ “سیاہ فام آزادی کے لیے کوئی معتدل راستہ نہیں ہوتا۔”

میئر ممدانی نے افوا اتا-مینسا کی تقرری کے موقع پر کہا تھا کہ “سٹی ہال میں نسلی مساوات کو آگے بڑھانے کے لیے میں سب سے زیادہ جس شخص پر اعتماد کرتا ہوں، وہ افوا اتا-مینسا ہیں۔”

ان کی متنازع پوسٹس کو نیویارک ینگ ریپبلکنز کلب نے منظرِ عام پر لایا۔ رپورٹس کے مطابق افوا اتا-مینسا نے تقرری کے ایک ہفتے کے اندر اپنا اکاؤنٹ بند کر دیا، اسی دوران میئر کے ایک اور معاون، کرایہ داروں کی وکیل سیا ویور، بھی اپنے سوشل میڈیا بیانات پر شدید تنقید کی زد میں آئیں۔

افوا اتا-مینسا کی پرانی پوسٹس میں لبرل سفید فام خواتین پر تنقید، غیر منافع بخش اداروں میں کام کرنے والی سفید فام خواتین کو “پولیس جیسا رویہ” رکھنے سے تشبیہ دینا، اور “سنٹرل پارک کیرن” کے واقعے سے موازنہ شامل تھا۔ ایک پوسٹ میں انہوں نے امیر طبقے پر “سفید گوشت تک ٹیکس لگانے” جیسے جملے کی بھی تائید کی۔

میئر کے دفتر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی بھی مقررہ عہدیدار کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کی ہدایت نہیں دی۔ افوا اتا-مینسا اس سے قبل میئر ممدانی کی انتخابی مہم اور مختلف سماجی انصاف کی تنظیموں کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

دوسری جانب، سیا ویور کے ماضی کے بیانات میں نجی جائیداد کو “سفید فام بالادستی کا ہتھیار” قرار دینا اور مزید کمیونسٹ نمائندوں کے انتخاب کی اپیل شامل تھی، جس پر بھی انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

نیو یارک ینگ ریپبلکنز کلب کے صدر اسٹیفانو فورٹے نے الزام لگایا کہ میئر کی ٹیم افوا اتا-مینسا کے ماضی کے مؤقف کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ “میئر ممدانی کے قریبی حلقے میں سفید فام مخالف سوچ کوئی حاشیہ نہیں بلکہ ایک نمایاں مسئلہ ہے۔”

سٹی ہال کی جانب سے افوا اتا-مینسا کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *