Tri-State Families Face Uncertainty After SNAP Policy Overhaul

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نئے قوانین سے نہ صرف غریب طبقے کی غذائی قلت میں اضافہ ہوگا بلکہ تارکینِ وطن اور کم آمدنی والے خاندانوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھے گا۔

Editor News

نیویارک: امریکہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے ‘سپلیمینٹل نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام’ (SNAP) کے لیے کام کی سخت شرائط (Work Requirements) لاگو کر دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں نیویارک، نیو جرسی اور کنیکٹیکٹ (ٹرائی اسٹیٹ ایریا) کے لاکھوں ضرورت مند افراد کے لیے سرکاری راشن کی سہولت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

نیویارک اسٹیٹ آفس آف ٹمپریری اینڈ ڈس ایبلٹی اسسٹنس (OTDA) کے مطابق، اب 18 سے 64 سال تک کے تمام صحت مند افراد (Able-bodied adults) کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر ماہ کم از کم 80 گھنٹے کام کے ثبوت فراہم کریں۔ جو لوگ ملازمت نہیں کر رہے، انہیں اپنی مراعات برقرار رکھنے کے لیے 80 گھنٹے کی جاب ٹریننگ یا رضاکارانہ سرگرمی (Volunteer work) کا ریکارڈ دکھانا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، وہ افراد جو ان شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہیں گے، ان کے فوڈ اسٹیمپس میں کمی یا مکمل خاتمے کا سلسلہ جون 2026 سے شروع ہو جائے گا۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ نئے قانون میں سابق فوجیوں (Veterans)، بے گھر افراد (Unhoused) اور حال ہی میں فوسٹر کیئر سسٹم سے نکلنے والے نوجوانوں کو حاصل استثنیٰ (Exemptions) بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ امریکی محکمہ زراعت (USDA) نے ریاستوں کو حکم دیا ہے کہ وہ SNAP حاصل کرنے والے تمام افراد کا ذاتی ڈیٹا وفاقی حکومت کے ساتھ شیئر کریں۔

اس ڈیٹا میں 2020 سے اب تک کے تمام مستحقین کے نام، سوشل سیکیورٹی نمبرز، گھر کے پتے اور امیگریشن اسٹیٹس کی تفصیلات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جو ریاستیں یہ معلومات فراہم نہیں کریں گی، ان کے وفاقی فنڈز روک دیے جائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نئے قوانین سے نہ صرف غریب طبقے کی غذائی قلت میں اضافہ ہوگا بلکہ تارکینِ وطن اور کم آمدنی والے خاندانوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھے گا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *