عالمی دباؤ کے بعد X کا بڑا فیصلہ: Grok کے ذریعے تصاویر بنانا اب مفت نہیں رہے گا

Editor News

ایلون مسک کی سوشل میڈیا کمپنی ‘X’ (سابقہ ٹویٹر) نے اپنے AI ماڈل Grok کی جانب سے خواتین اور بچوں کی نازیبا اور غیر اخلاقی تصاویر تیار کرنے پر دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج کے بعد اس فیچر پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
اب یہ سہولت صرف ان صارفین کو دستیاب ہوگی جو ماہانہ سبسکرپشن فیس ادا کرتے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں Grok کے امیج جنریشن ٹولز کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال دیکھنے میں آیا۔ صارفین اس ٹول کے ذریعے اداکاروں، ماڈلز اور عام افراد کی مرضی کے بغیر ان کی قابلِ اعتراض تصاویر تیار کر رہے تھے، جس پر عالمی برادری نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔

بھارتی وزارتِ مواصلات نے X کو سخت وارننگ دیتے ہوئے فوری تبدیلیوں کا حکم دیا اور کہا کہ بصورتِ دیگر کمپنی کو حاصل قانونی تحفظ (Safe Harbor) ختم کیا جا سکتا ہے۔

یورپی حکام نے xAI سے اس حوالے سے تمام دستاویزات طلب کر لی ہیں تاکہ سسٹم کی خامیوں کی جانچ کی جا سکے۔

برطانیہ کے کمیونیکیشن واچ ڈاگ نے بھی اس معاملے پر کمپنی سے رابطہ کیا ہے اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایلون مسک کا موقف
ایلون مسک نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی مواد کی تخلیق پر وہی قوانین لاگو ہوں گے جو عام طور پر سوشل میڈیا پر غیر قانونی پوسٹس کے لیے ہوتے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ:

“جو بھی شخص Grok کو غیر قانونی مواد بنانے کے لیے استعمال کرے گا، اسے وہی نتائج بھگتنا ہوں گے جو غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے پر ہوتے ہیں۔”

اگرچہ X پلیٹ فارم پر یہ فیچر اب صرف پیڈ ممبرز کے لیے ہے، لیکن اطلاعات کے مطابق Grok کی اپنی علیحدہ ایپ پر ابھی بھی کچھ حد تک یہ سہولت بغیر کسی فیس کے دستیاب ہے، جو کمپنی کی پالیسیوں پر مزید سوالات اٹھا رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *