کیلیفورنیا: فیس بک اور انسٹاگرام کی مادر کمپنی میٹا نے اپنی مصنوعی ذہانت (AI) کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک نیا بڑا منصوبہ “میٹا کمپیوٹ” (Meta Compute) متعارف کروا دیا ہے۔
کمپنی کے سی ای او مارک زکربرگ نے اعلان کیا ہے کہ میٹا آنے والی دہائیوں میں اپنی بجلی کی کھپت اور انفراسٹرکچر میں غیر معمولی اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
زکربرگ نے تھریڈز (Threads) پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ میٹا اس دہائی میں دسیوں گیگا واٹ (GW) اور مستقبل میں سینکڑوں گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے اور استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
ایک گیگا واٹ ایک ارب واٹ کے برابر ہوتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق، اے آئی کے بڑھتے ہوئے کاروبار کی وجہ سے امریکہ میں بجلی کی کھپت 5 گیگا واٹ سے بڑھ کر 50 گیگا واٹ تک جا سکتی ہے۔
اس عظیم الشان منصوبے کو چلانے کے لیے زکربرگ نے تین اہم ترین ایگزیکٹوز کو نامزد کیا ہے:
یہ 2009 سے کمپنی کے ساتھ ہیں اور گلوبل انفراسٹرکچر کے سربراہ ہیں۔ وہ ٹیکنیکل فن تعمیر، سافٹ ویئر سٹیک، سلیکون پروگرام اور ڈیٹا سینٹرز کے عالمی نیٹ ورک کی نگرانی کریں گے۔
یہ گزشتہ سال کمپنی میں شامل ہوئے (وہ الیا ستسکیور کے ساتھ سیف سپر انٹیلی جنس کے بانی بھی ہیں)۔ وہ طویل مدتی صلاحیت، سپلائر پارٹنرشپ اور بزنس ماڈلنگ کے ذمہ دار ہوں گے۔
دینا پاول میک کارمک: میٹا کی نئی صدر اور وائس چیئرمین، جو سابق حکومتی عہدیدار بھی رہ چکی ہیں۔ وہ حکومتوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری، فنانسنگ اور میٹا کے انفراسٹرکچر کی تعیناتی پر کام کریں گی۔
میٹا کا یہ قدم گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی حریف کمپنیوں کے مقابلے میں خود کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حال ہی میں گوگل نے ڈیٹا سینٹر فرم Intersect کو خریدا ہے، جبکہ مائیکروسافٹ بھی اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے بڑے پیمانے پر شراکت داریاں کر رہا ہے۔
میٹا کی سی ایف او سوسن لی کا کہنا ہے کہ بہترین اے آئی ماڈلز اور پروڈکٹ تجربات تیار کرنے کے لیے جدید ترین انفراسٹرکچر کا ہونا ایک کلیدی برتری ثابت ہوگا۔
