واشنگٹن: مریکہ میں ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے ایک کرپٹو کرنسی ایکسچینج کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کمپنی کے حصص یافتگان (Shareholders) کو ڈیجیٹل ٹوکنز دیے جائیں گے۔
ٹرمپ میڈیا نے سنگاپور میں قائم کمپنی Crypto.com کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ہر ایک شیئر کے بدلے شیئر ہولڈرز کو ایک ڈیجیٹل ٹوکن دیا جائے گا۔ ان ٹوکنز کے حامل افراد کو سال بھر مختلف انعامات، رعایتیں اور ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) اور اس کی اسٹریمنگ سروس ‘ٹروتھ پلس’ پر خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
اس اعلان کے ساتھ ہی بدھ کو ٹرمپ میڈیا کے شیئرز میں 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ یاد رہے کہ کمپنی کے زیادہ تر حصص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت ہیں۔ ٹرمپ، جو خود کو “کرپٹو صدر” قرار دیتے ہیں، امریکہ کو دنیا کا “کرپٹو کیپیٹل” بنانا چاہتے ہیں۔ ان کی انتظامیہ نے کرپٹو انڈسٹری پر عائد کئی پابندیاں ختم کر دی ہیں اور حال ہی میں امریکی خزانے میں ‘بٹ کوائن’ کا اسٹریٹجک ریزرو بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
یہ ٹرمپ میڈیا اور Crypto.com کے درمیان پہلا تعاون نہیں ہے۔ اس سے قبل دونوں کمپنیاں ڈیجیٹل کرنسی ‘کرونوس’ (Cronos) اور عالمی حالات پر شرط لگانے والے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ پریڈکٹ’ (Truth Predict) پر بھی کام کر چکی ہیں۔ کمپنی کے سی ای او ڈیون نونس کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی ٹوکن تقسیم ہے جو بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکن ہوگی۔
جہاں کرپٹو انڈسٹری ٹرمپ کے ان اقدامات کو سراہ رہی ہے اور ان کی تقریبِ حلف برداری کے لیے لاکھوں ڈالر عطیات دیے ہیں، وہیں ناقدین خبردار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ:کرپٹو کرنسی میں ریگولیشن کی کمی سرمایہ کاری کو خطرناک بنا سکتی ہے۔
ناقدین کا الزام ہے کہ کاروباری شخصیات صدر کے خاندانی مالیاتی مفادات کو سپورٹ کر کے حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ٹروتھ سوشل اپنے حریفوں کے مقابلے میں اب بھی پیچھے ہے اور کمپنی اپنی ساکھ مضبوط کرنے کے لیے اب فیوژن انرجی جیسے دیگر شعبوں میں بھی قدم جما رہی ہے۔
