نیو جرسی (ویب ڈیسک): نیو جرسی کی اسمبلی ممبر اینڈریا کاٹز (Andrea Katz) نے ایک بل متعارف کرایا ہے جسے ‘نیو جرسی کڈز کوڈ ایکٹ’ کا نام دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت:سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے اعلیٰ ترین حفاظتی سیٹنگز لاگو کرنا ہوں گی۔
نابالغوں کے ذاتی ڈیٹا کو جمع کرنے اور اس کے استعمال پر سخت پابندیاں ہوں گی۔
سوشل میڈیا ایپس پر وارننگ لیبلز لگائے جائیں گے جو ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں آگاہ کریں گے۔
‘مدرز اگینسٹ میڈیا ایڈکشن’ (MAMA) کی بانی جولی سیلفو کا کہنا ہے کہ جب ہم قانوناً بچوں کو شراب، سگریٹ یا کیسینو جانے کی اجازت نہیں دیتے، تو ہم سوشل میڈیا کمپنیوں کو یہ اجازت کیوں دیں کہ وہ بچوں کے لیے ایسی نشہ آور چیزیں ڈیزائن کریں؟
ایک اور سماجی کارکن، لورا مرانڈا براؤن، نے اپنا لرزہ خیز تجربہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پہلی جماعت کی بیٹی جب اسکول کے ٹیبلٹ پر ‘ہیلو کٹی’ دیکھ رہی تھی، تو الگورتھم نے خود بخود اسے ایسی پرتشدد ویڈیوز دکھانا شروع کر دیں جن میں کارٹون کردار ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔
جبکہ نیو جرسی میں یہ قانون سازی جاری ہے، امریکہ کے دوسرے حصے لاس اینجلس میں سوشل میڈیا کمپنیاں وفاقی ٹرائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپنی ایپس کو بچوں کے لیے نشہ آور (Addictive) بنایا ہے۔
