سان فرانسسکو(ویب ڈیسک): میٹا (Meta) نے اپنے ڈیٹا سینٹرز کے لیے نیوکلیئر پاور کے تین بڑے معاہدوں کا اعلان کیاہے۔
میٹا نے مجموعی طور پر 6.6 گیگا واٹ (GW) نیوکلیئر بجلی حاصل کرنے کے لیے تین کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ یہ بجلی میٹا کے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے منصوبوں، بالخصوص اوہائیو میں زیرِ تعمیر “Prometheus” AI سپر کلسٹر کو توانائی فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
میٹا کے مطابق ان منصوبوں سے اوہائیو اور پنسلوانیا میں تعمیرات کے دوران ہزاروں اور مستقل آپریشنز کے لیے سینکڑوں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
ٹیرا پاور کا تخمینہ ہے کہ وہ $50 سے $60 فی میگا واٹ گھنٹہ تک لاگت لانے میں کامیاب ہو جائے گی، جبکہ اوکلو کا ہدف $80 سے $130 ہے۔
ان معاہدوں کے نتیجے میں نیوکلیئر کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ معاہدے میٹا کی دسمبر 2024 کی اس درخواست (RFP) کا نتیجہ ہیں جس میں اس نے 1 سے 4 گیگا واٹ بجلی کی طلب کی تھی۔
میٹا کا یہ اقدام اسے امریکہ میں نیوکلیئر پاور کے سب سے بڑے کارپوریٹ خریداروں میں سے ایک بنا دیتا ہے، جو مائیکروسافٹ، گوگل اور ایمیزون جیسی دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔
1:وِسٹرا (Vistra Corp)
میٹا اوہائیو میں واقع دو فعال پلانٹس (Perry اور Davis-Besse) سے 2.1 گیگا واٹ بجلی خریدے گا۔معاہدے کے تحت وِسٹرا ان دونوں پلانٹس اور پنسلوانیا کے Beaver Valley پلانٹ کی صلاحیت میں 433 میگا واٹ کا اضافہ (Uprates) بھی کرے گا، جو 2030 کی دہائی کے آغاز تک مکمل ہوگا۔
یہ 20 سالہ طویل مدتی خریداری کا معاہدہ ہے۔
2. اوکلو (Oklo Inc)
میٹا اوکلو سے 1.2 گیگا واٹ بجلی خریدے گا۔یہ ری ایکٹرز اوہائیو کے علاقے Pike County میں ایک نیوکلیئر ٹیکنالوجی کیمپس میں تعمیر کیے جائیں گے۔اس منصوبے کا پہلا مرحلہ 2030 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔
3. ٹیرا پاور (TerraPower)
ابتدائی طور پر 690 میگا واٹ (دو ری ایکٹرز) کی فراہمی ہوگی۔
میٹا کے پاس مزید 6 یونٹس سے بجلی خریدنے کا اختیار ہے، جس سے کل صلاحیت 2.8 گیگا واٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس میں 1.2 گیگا واٹ کا انرجی اسٹوریج سسٹم بھی شامل ہے۔
اس منصوبے سے بجلی کی فراہمی 2032 تک شروع ہونے کی توقع ہے۔
