وفاقی ایجنٹوں کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک، شہر بھر میں احتجاج کی لہر

"مینیسوٹا سے ان ہزاروں پرتشدد اور غیر تربیت یافتہ افسران کو فوری طور پر باہر نکالا جائے۔" — گورنر ٹم والز

Editor News

مینیاپولس (نیوزایجنسی، ایسوسی ایٹ پریس) : ہفتے کے روز مینیاپولس میں وفاقی امیگریشن افسران کی فائرنگ سے ایک 37 سالہ شخص کی ہلاکت کے بعد سینکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ شہر پہلے ہی چند ہفتے قبل ہونے والی ایک اور مہلک فائرنگ کے نتیجے میں سخت کشیدگی کا شکار ہے۔

فائرنگ کے حالات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکے، تاہم مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ٹرمپ انتظامیہ کے امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران پیش آیا۔ مینیاپولس کے پولیس چیف برائن اوہارا نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 37 سال تھی۔

اے پی (AP) نے پہلے ہسپتال کے ریکارڈ کی بنیاد پر عمر 51 سال بتائی تھی، جسے اب درست کر دیا گیا ہے۔

حکام کا موقف: محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ترجمان ٹریشیا میک لافلن نے دعویٰ کیا کہ اس شخص کے پاس ایک پستول اور دو میگزین تھے اور صورتحال تیزی سے بدل رہی تھی۔ حکام نے ایک ہینڈ گن کی تصویر بھی جاری کی ہے جو ان کے بقول ہلاک ہونے والے شخص کے پاس سے ملی۔

یہ فائرنگ 7 جنوری کو ہونے والے ایک اور واقعے کے ٹھیک دو ہفتے بعد ہوئی ہے، جس میں 37 سالہ رینی گڈ (Renee Good) کو ایک آئی سی ای (ICE) افسر نے ان کی گاڑی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ حالیہ واقعہ رینی گڈ کی جائے وفات سے محض ایک میل کے فاصلے پر پیش آیا۔

واقعے کے فوراً بعد مشتعل ہجوم جمع ہو گیا اور وفاقی افسران کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے سڑکیں بلاک کرنے کے لیے کوڑے دانوں کا استعمال کیا اور “ICE کو ابھی باہر نکالو” کے نعرے لگائے۔

عینی شاہدین کے مطابق وفاقی افسران نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیوں اور فلیش بینگز (دھماکہ خیز آلات) کا استعمال کیا۔

گورنر ٹم والز اور سینیٹر ایمی کلوبچر نے اس واقعے پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے:

“مینیسوٹا سے ان ہزاروں پرتشدد اور غیر تربیت یافتہ افسران کو فوری طور پر باہر نکالا جائے۔” — گورنر ٹم والز

سینیٹر ایمی کلوبچر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے شروع کردہ اس مہم نے مقامی امن و امان کو تباہ کر دیا ہے، اسکول بند ہیں اور بچے سہمے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی سی ای کو فوری طور پر مینیسوٹا سے نکالا جائے۔

پولیس چیف برائن اوہارا نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں مزید توڑ پھوڑ کسی کے مفاد میں نہیں ہے، تاہم انہوں نے وفاقی ایجنسیوں سے بھی شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *