صدر ٹرمپ کاروس کےساتھ ایٹمی ہتھیاروں کےمعاہدےمیں توسیع سے انکار

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے خاتمے سے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی آ سکتی ہے

Editor News
Former National Security adviser Mike Waltz, nominated to be U.S. ambassador to the United Nations, testifies before a Senate Foreign Relations Committee confirmation hearing on Capitol Hill in Washington, D.C., U.S., July 15, 2025. REUTERS/Ken Cedeno

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی جانب سے اسٹریٹجک ایٹمی ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی کے معاہدے (New START) میں رضاکارانہ توسیع کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ دو دہائیوں سے نافذ العمل یہ معاہدہ جمعرات کو اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔

ٹرمپ کا موقف ہےکہ”نیا اور بہتر معاہدہ چاہیے”
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ “نیو اسٹارٹ” (New START) میں توسیع کے بجائے ہمیں اپنے ایٹمی ماہرین کے ذریعے ایک نئے، بہتر اور جدید معاہدے پر کام کرنا چاہیے جو مستقبل میں طویل عرصے تک برقرار رہ سکے۔

انہوں نے اس معاہدے کو ایک “برا سودا” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ روس اس کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ روس نے 2023 میں یوکرین جنگ کے تناظر میں معائنے کی سہولیات معطل کر دی تھیں۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے تجویز دی تھی کہ دونوں ممالک ایک سال کے لیے 2010 کے معاہدے کی حدود پر قائم رہیں، جس کے تحت:

ایٹمی وار ہیڈز زیادہ سے زیادہ 1,550 کی حد۔

میزائلوں، طیاروں اور آبدوزوں کی تعداد 700 تک محدود رکھنا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے خاتمے سے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی آ سکتی ہے۔ اس وقت دنیا کے بڑے ایٹمی طاقتوں کے پاس وار ہیڈز کی تخمینے کے مطابق تعداد درج ذیل ہے:

صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کسی بھی نئے معاہدے میں چین کو بھی شامل کیا جائے، تاہم بیجنگ نے اب تک واشنگٹن اور ماسکو کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ بیجنگ کا موقف ہے کہ اس کے پاس امریکہ اور روس کے مقابلے میں ہتھیاروں کی تعداد بہت کم ہے۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر کوئی نیا معاہدہ نہ ہوا تو دونوں ممالک ایک دوسرے کی صلاحیتوں کے بارے میں بدترین مفروضوں پر انحصار کریں گے۔

امریکہ اور روس چند سالوں کے اندر سینکڑوں مزید وار ہیڈز تعینات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عالمی سیکیورٹی کا ڈھانچہ مزید کمزور ہو جائے گا۔

اقوامِ متحدہ نے بھی دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا کو ایٹمی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اس معاہدے کو بحال کریں یا متبادل تلاش کریں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *