غزہ: اقوام متحدہ کی جانب سے امدادی سامان کی ترسیل جاری

جس سے تقریباً 25 ہزار بچوں کو تعلیمی سہولت فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔

Editor News

\

جنیوا: اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے جاری کوششوں کے تحت اس کے شراکت دار روزانہ مختلف سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ضروری سامان اتار رہے ہیں۔

پیر کے روز انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں نے دو سرحدی گزرگاہوں جنوبی غزہ میں کریم شالوم/کرم ابو سالم اور شمالی علاقے میں زیکیم کے ذریعے تقریباً 4 ہزار پیلیٹس پر مشتمل امدادی سامان غزہ میں داخل کیا۔

خوراک، پانی اور دیگر ضروری اشیا
اقوام متحدہ کے مطابق، اتارے گئے پیلیٹس میں سے تقریباً 65 فیصد خوراک پر مشتمل تھے، جبکہ 12 فیصد میں رہائش سے متعلق سامان شامل تھا۔ مزید 12 فیصد پیلیٹس پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی اشیا پر مشتمل تھیں، جبکہ 7 فیصد میں صحت اور غذائیت سے متعلق سامان شامل تھا۔

ادھر اقوام متحدہ نے منگل کے روز اسرائیلی حکام کے ساتھ پانچ انسانی امدادی نقل و حرکت کی کوشش کی۔ ان میں سے تین کو اجازت مل گئی، ایک کو ابتدائی منظوری کے باوجود حتمی کلیئرنس نہ مل سکی، جبکہ ایک امدادی کارروائی منتظمین کی جانب سے منسوخ کر دی گئی۔

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، ان حالات کے باوجود امدادی ٹیمیں عملے کو دوبارہ تعینات کرنے میں کامیاب رہیں اور کریم شالوم گزرگاہ سے خوراک اور طبی سامان کی محدود مقدار وصول کی جا سکی، جبکہ کچھ دیگر علاقوں میں امدادی سرگرمیاں انجام دی گئیں جہاں اسرائیلی حکام سے پیشگی اجازت درکار نہیں تھی۔

بچوں کے لیے سردی سے بچاؤ کے سامان کی فراہمی
تعلیمی شعبے میں شراکت دار اداروں نے 12 سے 14 سال کی عمر کے بچوں میں 2 ہزار سے زائد سردی سے بچاؤ کے کِٹس تقسیم کیں۔ اس کے علاوہ 16 تعلیمی مراکز میں 58 خصوصی خیمے نصب اور تقسیم کیے گئے۔

ان اقدامات کا مقصد کلاس رومز کی گنجائش میں اضافہ کرنا ہے، جس سے تقریباً 25 ہزار بچوں کو تعلیمی سہولت فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔

بارودی مواد کے خطرات کی جانچ
ادھر بارودی سرنگوں سے نمٹنے کے شعبے میں کام کرنے والے ادارے اہم علاقوں میں ممکنہ دھماکا خیز مواد کے خطرات کا معائنہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں پیر کے روز دیر البلح اور غزہ شہر میں ملبہ ہٹانے میں معاونت کے لیے دو ابتدائی جائزے بھی مکمل کیے گئے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *