عالمی ادارہ صحت کا امریکی الزامات پر ردِعمل: “ہمیشہ غیر جانبداری سے کام کیا”

ہمیشہ امریکہ کے ساتھ نیک نیتی اور اس کی خود مختاری کے احترام کے ساتھ تعاون کی کوشش کی ہے, اقوام متحدہ

Editor News

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (WHO) نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں امریکہ کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ادارہ سیاسی ایجنڈے پر چل رہا ہے یا اس کی آزادی پر سمجھوتہ ہوا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ امریکہ کے ساتھ نیک نیتی اور اس کی خود مختاری کے احترام کے ساتھ تعاون کی کوشش کی ہے۔

امریکہ کے اس الزام کے جواب میں کہ ادارہ “امریکی مفادات کے مخالف ممالک” کے زیرِ اثر ہے، WHO نے واضح کیا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ بیان کے مطابق، ادارہ کسی خوف یا رعایت کے بغیر تمام ممالک کی خدمت کے لیے موجود ہے۔

ادارے نے ان الزامات کا بھی جواب دیا جن میں کہا گیا تھا کہ WHO نے بروقت معلومات شیئر نہیں کیں یا ناکامیوں کو چھپایا۔ ادارے کا موقف ہے کہ اس نے وباء کے دوران انتہائی تیزی اور شفافیت سے کام لیا اور دستیاب بہترین شواہد کی بنیاد پر دنیا کی رہنمائی کی۔

ادارے نے واضح کیا کہ اس نے ماسک، ویکسین اور سماجی فاصلے کی سفارش تو کی، لیکن کبھی بھی ماسک یا ویکسین کی لازمی پابندی (Mandates) یا لاک ڈاؤن کی سفارش نہیں کی۔

بیان میں وباء کے ابتدائی دنوں کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا گیا کہ:

31 دسمبر 2019: چین میں نمونیا کے کیسز کی اطلاع ملتے ہی چین سے مزید معلومات طلب کی گئیں اور ہنگامی نظام فعال کر دیا گیا۔

11 جنوری 2020: چین میں پہلی موت کی رپورٹ سے پہلے ہی عالمی سطح پر الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔

30 جنوری 2020: جب بین الاقوامی سطح پر ‘ہنگامی حالت’ کا اعلان کیا گیا، اس وقت چین سے باہر صرف 100 سے کم کیسز تھے اور کوئی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔ ادارے کے سربراہ (ڈائریکٹر جنرل) نے بارہا دنیا کو خبردار کیا تھا کہ “یہ کوئی ڈرل نہیں ہے” اور یہ کہ “موقع ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

علیحدگی کے نوٹس کے باوجود، عالمی ادارہ صحت نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ مستقبل میں دوبارہ ادارے کے ساتھ تعاون کرے گا۔ ادارے نے یاد دلایا کہ امریکہ WHO کا بانی رکن ہے اور اس نے چیچک کے خاتمے، پولیو، ایچ آئی وی، اور ایبولا جیسی بیماریوں کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

بیان کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ WHO تمام ممالک کے ساتھ مل کر انسانی صحت کے بنیادی حق کے لیے کام کرتا رہے گا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *