یوکرین میں امدادی کام: ڈرون حملوں اور گولہ باری کے سائے میں زندگی بچانےکی جدوجہد

اولیگ کیمن کے مطابق، فرنٹ لائن کے علاقوں میں 'ایف پی وی' (ریموٹ کنٹرول) ڈرونز ایک بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

Editor News

کیف/نیویارک: یوکرین اور روس کے درمیان ایک ہزار کلومیٹر طویل فرنٹ لائن پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانا اب کسی موت کے کھیل سے کم نہیں۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے سیکیورٹی آفیسر اولیگ کیمن نے یو این نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ان ہولناک حالات کی تفصیلات بتائی ہیں جن میں وہ اور ان کی ٹیم کام کر رہی ہے۔

اولیگ کیمن کے مطابق، فرنٹ لائن کے علاقوں میں ‘ایف پی وی’ (ریموٹ کنٹرول) ڈرونز ایک بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی گاڑیاں اگرچہ دونوں اطراف کو اپنی لوکیشن سے آگاہ کرتی ہیں، لیکن ڈرونز سے بچنے کے لیے سڑکوں کے گرد 10 سے 15 کلومیٹر طویل ‘جالی دار راہداریوں’ (Net Corridors) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ جالیاں چھوٹے ڈرونز کو گاڑی تک پہنچنے سے پہلے روک لیتی ہیں۔ تاہم، موسم سرما کی تیز ہوائیں اکثر ان جالیوں کو پھاڑ دیتی ہیں، جس سے خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

“خاموش ہوتی بستیاں اور تنہا رہ جانے والے لوگ”
اولیگ نے بتایا کہ فرنٹ لائن کے قریب پوکروسک، کوپیانسک اور کونسٹنٹینکا جیسے شہروں میں زندگی آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔

پہلے دورے پر جو شہر نارمل لگتا ہے، دوسرے دورے تک وہاں کی دکانیں بند ہو جاتی ہیں۔

آخری مشن تک وہ شہر مکمل خالی ہو چکا ہوتا ہے، جہاں صرف وہ لوگ باقی رہ جاتے ہیں جن کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہوتی۔

نقل مکانی کے حکومتی مواقع کے باوجود بہت سے لوگ، خاص طور پر بزرگ، اپنے گھر چھوڑنے کو تیار نہیں۔ اولیگ نے ایک ضعیف خاتون کا ذکر کیا جس نے کہا: “یہاں میرے شوہر اور بچوں کی قبریں ہیں، میں انہیں چھوڑ کر کہاں جاؤں؟” کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے یورپ یا مغربی یوکرین جانے کی کوشش کی، لیکن بڑھاپے کی وجہ سے نوکری نہ ملنے اور کرایہ نہ دے پانے کے باعث وہ واپس اپنے جنگ زدہ علاقوں میں لوٹ آئے۔

یوکرین میں اقوام متحدہ کا کام صرف کھانا تقسیم کرنا نہیں، بلکہ زمین کو دوبارہ کاشت کے قابل بنانا بھی ہے۔

یوکرین کی تقریباً 25 سے 30 فیصد زمین بارودی مواد اور غیر پھٹے گولوں سے آلودہ ہے۔

اولیگ کے مطابق، یوکرین کا اناج افریقہ سمیت پوری دنیا کی بھوک مٹانے کے لیے ضروری ہے، اس لیے WFP بارودی سرنگوں کی صفائی (Demining) میں بھرپور حصہ لے رہی ہے۔

اولیگ کیمن کا کہنا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں اور بجلی کی بندش کے باوجود یوکرینی عوام اور امدادی ٹیمیں ہمت نہیں ہار رہیں۔ جہاں ٹرک نہیں پہنچ سکتے، وہاں وہ اپنی بکتر بند گاڑیوں کی پچھلی نشستیں نکال کر انہیں راشن سے بھر دیتے ہیں اور کیچڑ سے بھرے راستوں کو عبور کر کے ضرورت مندوں تک پہنچتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *