طالبان کے بعد افغانستان سے کینیڈا تک: نیلا ابراہیمی کی جدوجہد، افغان لڑکیوں کی آواز بننے کا عزم

یس سرکلز میں ہونے والی گفتگو اقوام متحدہ کے متعدد منصوبوں میں شامل کی جائے گی

Editor News

نیویارک: 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نیلا ابراہیمی اور ان کے اہلِ خانہ کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔ کم عمری ہی سے انسانی حقوق کی سرگرم کارکن رہنے والی نیلا کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ نئے حکمرانوں کے دور میں وہ نشانے پر آ سکتی ہیں۔ محض 13 سال کی عمر میں انہوں نے ایک وائرل مہم کی قیادت کی تھی، جس کے نتیجے میں افغان حکومت کو 12 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کے عوامی طور پر گانے پر عائد پابندی واپس لینا پڑی تھی۔

کچھ عرصہ روپوش رہنے کے بعد نیلا ابراہیمی نے کینیڈا میں پناہ لی، تاہم انہوں نے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی۔ کینیڈا میں قیام کے دوران انہوں نے HerStory کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، جو افغانستان کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم افغان لڑکیوں کے تجربات کو دستاویزی شکل دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔

نیلا ابراہیمی کا کہنا ہے:
“میں ان لڑکیوں کی کہانیاں بیان کرنے کی پوری کوشش کرتی ہوں جنہیں اسکول جانے سے روک دیا گیا ہے۔ میں تو تعلیم مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئی، لیکن میری دوستیں آج بھی نویں جماعت میں ہی وقت کی قید میں ہیں۔ یہ کام جذباتی طور پر بہت مشکل ہے، مگر اگر اس سے ایک شخص بھی کچھ کرنے پر آمادہ ہو جائے تو میں سمجھتی ہوں کہ میری کوشش کامیاب ہے۔”

امن کے لیے نوجوانوں کا کردار
نیلا ابراہیمی نے یہ بات اقوام متحدہ کی نیوز سروس کو 15 دسمبر کو ہونے والی ایک تقریب کے دوران بتائی، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2250 کی دسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ یہ قرارداد نوجوانوں کو عالمی امن اور سلامتی کے فروغ میں فعال شراکت دار کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

دنیا کی تقریباً نصف آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے یہی نسل مشترکہ مستقبل میں سب سے زیادہ حصہ رکھتی ہے۔ اس کے باوجود، نوجوانوں کو اکثر ان پلیٹ فارمز سے باہر رکھا جاتا ہے جہاں پیچیدہ عالمی مسائل کے حل پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

قرارداد 2250 کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ نے متعدد اقدامات کی حمایت کی، جن میں کانگو، گیمبیا اور ہونڈوراس میں یوتھ، پیس اینڈ سیکیورٹی (YPS) کے قومی اور مقامی ایکشن پلانز کی تیاری شامل ہے۔ اسی طرح افریقی یونین نے پہلی بار براعظم گیر YPS مکالمہ منعقد کیا، جو بجُمبورا اعلامیہ پر منتج ہوا۔ اب تک افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور یورپ کے 11 ممالک نے قرارداد 2250 کے مطابق YPS ایکشن پلان نافذ کیے ہیں۔

تاہم طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان ان ممالک میں شامل نہیں ہے۔ اس کے باوجود نیلا ابراہیمی پرعزم ہیں اور خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا:“کانفرنس کے دوران مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میں ایک ہی کمرے میں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھی ہوں جن سے شاید کبھی ملاقات کا موقع نہ ملتا۔ ان سے یہ جاننا کہ انہوں نے اپنے ملکوں میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے کون سی حکمت عملیاں اپنائیں، میرے لیے بہت قیمتی تجربہ تھا۔ ان کی موجودگی ہی میرے لیے ایک بڑا اعزاز اور سیکھنے کا موقع تھی۔”

15 دسمبر کی تقریبات کا اختتام پیس سرکل پر ہوا، جس میں نیلا ابراہیمی، دیگر نوجوان رہنما، اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام، سفارتکار اور ماہرینِ تعلیم شریک ہوئے۔ پیس سرکلز اقوام متحدہ کی Act Now مہم کا حصہ ہیں، جن کا مقصد امن سے متعلق موضوعات پر غیر رسمی مکالمہ ہے، جن میں تعلیم، صنفی مساوات، موسمیاتی تبدیلی اور ٹیکنالوجی جیسے موضوعات شامل ہو سکتے ہیں۔

ان مکالموں میں کم از کم نصف شرکا 30 سال سے کم عمر ہوتے ہیں، خاص طور پر وہ نوجوان جو عموماً فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہیں ہوتے۔

Act Now for Peace مہم ستمبر 2026 تک جاری رہے گی، جبکہ پیس سرکلز میں ہونے والی گفتگو اقوام متحدہ کے متعدد منصوبوں میں شامل کی جائے گی، جن میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نوجوانوں کے امن میں کردار سے متعلق آزاد تحقیق اور عالمی نوجوان امن منشور بھی شامل ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *