عراق اب ایک بدلا ہوا اور مستحکم ملک ہے، اقوام متحدہ کا مشن ‘یونامی’ اختتام پذیر

2003 کے حملے کے بعد جنگ اور شورش کا شکار رہنے والے عراق میں اب ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

Editor News

نیویارک(ویب ڈیسک): اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر غلام اسحاق زئی نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق نے دو دہائیوں کے طویل سفر کے بعد ایک ایسی تبدیلی حاصل کر لی ہے جو ‘ناقابل یقین اور غیر معمولی’ ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا کہ عراق میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (UNAMI) کا مینڈیٹ دسمبر 2025 میں مکمل ہو گیا ہے، اور اب عالمی ادارہ عراق کے ساتھ ایک نئی ترقیاتی شراکت داری کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

غلام اسحاق زئی نے بتایا کہ 2003 کے حملے کے بعد جنگ اور شورش کا شکار رہنے والے عراق میں اب ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا:

عراق میں غربت کی شرح جو 2018 میں 20 فیصد تھی، اب 2024-2025 میں کم ہو کر 17.5 فیصد رہ گئی ہے۔

ملک اب ‘ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس’ (انسانی ترقی کے اشاریہ) میں نمایاں بہتری دکھا رہا ہے، جس سے وہاں اوسط عمر، تعلیم اور معیارِ زندگی میں بہتری کی نشاندہی ہوتی ہے۔

سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کی وجہ سے تقریباً 50 لاکھ داخلی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (IDPs) اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا، جہاں ووٹ ڈالنے کی شرح 56 فیصد رہی، جو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ تھی۔ ان انتخابات میں امیدواروں کا ایک تہائی حصہ خواتین پر مشتمل تھا۔

غلام اسحاق زئی کے مطابق 2003 میں صدام حسین کے دور کے خاتمے اور بعد ازاں داعش (ISIL) کی شکست کے بعد قائم ہونے والا ‘یونامی’ مشن اب ختم ہو چکا ہے، لیکن اقوام متحدہ کا کام ختم نہیں ہوا۔

25 دسمبر کو حکومتِ عراق کے ساتھ ایک نیا پانچ سالہ ترقیاتی معاہدہ طے پایا ہے۔

یہ معاہدہ تعلیم، صحت، اقتصادی ترقی، ماحولیات اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے ایک ‘روڈ میپ’ فراہم کرتا ہے۔

اسحاق زئی نے خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ عراق اب انسانی امداد وصول کرنے والے ملک کے بجائے خود ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت میں حصہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ اس بات کی علامت ہے کہ عراق اب امداد لینے والے ملک سے ایک ‘ڈونر’ (عطیہ دینے والا) ملک بننے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔”

اس وقت عراق میں اقوام متحدہ کی 26 ایجنسیاں، فنڈز اور پروگرام فعال ہیں جو اس نئے ترقیاتی سفر میں عراق کی معاونت کر رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *