سیکرامنٹو: کیلیفورنیا کے محکمہ موٹر وہیکلز (DMV) کو تقریباً 20,000 تارکین وطن ٹرک ڈرائیوروں کی جانب سے دائر کردہ ایک بڑے مقدمے کا سامنا ہے، جس کا مقصد ان کے کمرشل ڈرائیونگ لائسنس (CDLs) کی منسوخی کو روکنا ہے۔
منگل کے روز ایشین لاء کاکس (Asian Law Caucus)، سکھ کولیشن (Sikh Coalition) اور لاء فرم ویل، گوٹشل اینڈ مینجز ایل ایل پی نے مشترکہ طور پر یہ مقدمہ دائر کیا۔ اس قانونی چارہ جوئی کا مقصد ریاست کی جانب سے لائسنس منسوخ کرنے کے فیصلے کو روکنا ہے، جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں 5 جنوری 2026 سے ریاست بھر میں کام کی بڑے پیمانے پر بندش ہو سکتی ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ڈی ایم وی نے گزشتہ ماہ 17,299 اور دسمبر میں مزید 2,700 ڈرائیوروں کو نوٹس بھیجے کہ ان کے لائسنس ختم کیے جا رہے ہیں۔ ریاست کا دعویٰ ہے کہ ان لائسنسوں کی تاریخِ تنسیخ (expiry date) میں غلطی تھی، جو ڈرائیوروں کے کام کے اجازت نامے (Work Authorization) کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔
سرکاری وعدہ خلافی کا الزام: سکھ کولیشن کے مطابق، حکام نے عوامی سطح پر یقین دہانی کرائی تھی کہ 17 دسمبر سے لائسنس دوبارہ جاری کیے جائیں گے، لیکن اب تک نہ تو کوئی لائسنس جاری ہوا اور نہ ہی اس غلطی کو درست کرنے کا کوئی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
مقدمے میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ڈی ایم وی کی جانب سے لائسنسوں کی براہِ راست منسوخی کیلیفورنیا کے طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ قانون کے مطابق، ریاست کو یا تو بغیر کسی تعصب کے لائسنس منسوخ کرنے چاہییں تھے تاکہ ڈرائیور دوبارہ درخواست دے سکیں، یا پھر تاریخوں کو درست کرنا چاہیے تھا۔
مقدمے میں واضح کیا گیا ہے کہ ان ڈرائیوروں کا تعلق سکھ اور دیگر اقلیتی برادریوں سے ہے جو امریکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ٹرکرز خوراک کی نقل و حمل، بچوں کو اسکول چھوڑنے اور صنعتی سامان کی ترسیل جیسے اہم کام سرانجام دیتے ہیں۔ ان کے لائسنس منسوخ ہونے سے نہ صرف ان کا روزگار چھن جائے گا بلکہ سپلائی چین بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن اور کمرشل لائسنس جاری کرنے کے عمل میں سختی لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ وفاقی حکومت نے چند مہلک حادثات کے بعد ریاستوں پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ تارکین وطن کو جاری کیے گئے غیر ڈومیسائلڈ لائسنسوں کی جانچ پڑتال کریں۔
مقدمہ دائر کرنے والی تنظیموں نے جج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حکمِ امتناعی (Stay Order) جاری کرے تاکہ ڈرائیوروں کے روزگار میں رکاوٹ نہ آئے اور انہیں اپنے لائسنس درست کروانے کا موقع مل سکے۔
