سان فرانسسکو: اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی امیجز کے لیے ایک بڑی اپ ڈیٹ کا اعلان کیا ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے تصاویر بنانے کی رفتار اور ہدایات پر درست عمل کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
کمپنی کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے ایک بلاگ پوسٹ کے مطابق، نئی اپ ڈیٹ کے بعد اے آئی سے تیار کردہ تصاویر میں درست اور باریک تبدیلیاں کرنا کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اس سے قبل چیٹ جی پی ٹی کا امیج جنریٹر ہدایات پر مکمل طور پر عمل کرنے میں مشکلات کا شکار رہتا تھا اور اکثر غیر ضروری تبدیلیاں بھی کر دیتا تھا۔
اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں کہا،
“اس اپ ڈیٹ میں ہدایات پر مضبوطی سے عمل کرنے کی صلاحیت، انتہائی درست ایڈیٹنگ اور چار گنا تک تیز تصویر سازی کی رفتار شامل ہے، جس سے تصاویر بنانا اور ان میں ترمیم کرنا کہیں زیادہ مؤثر ہو گیا ہے۔”
کمپنی کے مطابق یہ پیش رفت محض تفریحی یا تجرباتی تصویر سازی سے نکل کر عملی اور اعلیٰ معیار کی بصری تخلیق کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کے تحت چیٹ جی پی ٹی کو روزمرہ ایڈیٹنگ، تخلیقی تبدیلیوں اور حقیقی استعمال کے لیے ایک تیز اور لچکدار تخلیقی اسٹوڈیو میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے چیٹ جی پی ٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کمپنی کے اندر ایک میمو کے ذریعے “کوڈ ریڈ” کا اعلان کیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، اس میمو میں سیم آلٹمین نے اعتراف کیا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی کے روزمرہ استعمال کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے مزید کام درکار ہے، جن میں زیادہ سوالات کے جوابات دینے کی صلاحیت، رفتار، اعتماد اور صارفین کے لیے ذاتی نوعیت کی سہولیات میں بہتری شامل ہے۔
یہ اندرونی ہنگامی اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دیگر کمپنیاں تیزی سے اوپن اے آئی کے مقابلے میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ گوگل نے اپنے جیمینی ماڈل کا نیا ورژن متعارف کرایا تھا، جس نے صنعتی معیار کے کئی ٹیسٹوں میں اوپن اے آئی کو پیچھے چھوڑ دیا۔
رپورٹ کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی کی بہتری پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے اوپن اے آئی نے دیگر منصوبوں پر کام مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں ذاتی اسسٹنٹ ’پلس‘، اشتہارات اور صحت و شاپنگ کے لیے اے آئی ایجنٹس شامل ہیں۔
سیم آلٹمین نے یہ بھی کہا کہ چیٹ جی پی ٹی کو بہتر بنانے والے عملے کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر رابطہ رکھا جائے گا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، اوپن اے آئی فی الوقت منافع بخش نہیں ہے اور اسے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنا پڑتا ہے، جبکہ گوگل جیسی کمپنیاں اپنی آمدن کے ذریعے اے آئی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
