واشنگٹن/نیویارک (رائٹرز) – صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ رواں ہفتے امریکی تیل کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کرنے والی ہے تاکہ صدر نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا میں تیل کی پیداوار بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
امریکی حکومت کی کوشش ہے کہ ان بڑی کمپنیوں کو دوبارہ وینزویلا لایا جائے جن کے اثاثے تقریباً دو دہائیوں قبل وہاں کی حکومت نے قومیا (Nationalize) لیے تھے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی کمپنیاں وہاں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تمام بڑی تیل کمپنیوں سے اس آپریشن سے پہلے اور بعد میں بات کر چکے ہیں، لیکن انڈسٹری کے ذرائع اس کی تردید کر رہے ہیں:
ایکسان موبل (Exxon Mobil)، کونوکو فلپس (ConocoPhillips) اور شیورون (Chevron) کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک وائٹ ہاؤس کے ساتھ وینزویلا میں کام شروع کرنے کے حوالے سے کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ کمپنیاں آپس میں مل کر حکومتی اجلاس میں بیٹھنے سے کتراتی ہیں کیونکہ اس سے “اینٹی ٹرسٹ” (اجارہ داری مخالف) قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے این بی سی نیوز (NBC News) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ان کمپنیوں کو سبسڈی فراہم کر سکتا ہے تاکہ وہ وینزویلا کے تباہ حال انفراسٹرکچر کو دوبارہ کھڑا کر سکیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ آپریشن سے قبل کمپنیوں کو مخصوص تفصیلات نہیں دی گئی تھیں، لیکن وہ اس “منصوبے” سے واقف تھیں۔
اگرچہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ وہاں دوبارہ پیداوار شروع کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا:
برسوں کی پابندیوں اور عدم توجہی کی وجہ سے تیل کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے جسے ٹھیک کرنے میں برسوں لگیں گے۔
ملک کے سیاسی مستقبل اور قانونی ڈھانچے کے بارے میں شدید بے یقینی پائی جاتی ہے۔
ایکسان اور کونوکو فلپس کے اربوں ڈالرز کے معاوضے کے کیسز ابھی تک وینزویلا کے ساتھ چل رہے ہیں۔
اس خبر کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ میں توانائی کے حصص میں تیزی دیکھی گئی۔ شیورون کے حصص میں 5.1 فیصد اور ایکسان موبل میں 2.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ واشنگٹن کی اس کارروائی سے امریکی کمپنیوں کو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی مل جائے گی۔
