کنجیشن پرائسنگ کا ایک سال؛ مین ہٹن میں ٹریفک اور آلودگی میں نمایاں کمی

شہر کی فضا میں آلودگی کی شرح 22 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

Editor News

نیویارک : نیویارک میں ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے کے لیے نافذ کردہ ‘کنجیشن پرائسنگ’ (Congestion Pricing) کے ایک سال مکمل ہونے پر گورنر کیتھی ہوچول نے مثبت اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

گورنر کیتھی ہوچول کے مطابق، گزشتہ سال مین ہٹن کے مرکزی کاروباری ضلع (Central Business District) میں کنجیشن پرائسنگ کے نفاذ کے بعد سے اب تک 2 کروڑ 70 لاکھ کم گاڑیاں داخل ہوئی ہیں۔

گورنر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر اپنی ایک پوسٹ میں اس منصوبے کی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا:”کنجیشن پرائسنگ کام کر رہی ہے۔ (ٹریفک مانیٹرنگ) کیمرے آن رہیں گے۔”

منصوبے کے نفاذ کے ایک سال بعد تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں
مین ہٹن میں داخلے کے مقامات پر گاڑیوں کی رفتار میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ شہر کی فضا میں آلودگی کی شرح 22 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

دوسری جانب سیلز ٹیکس کی آمدنی میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا، دفاتر کے کرائے پر لینے کے رجحان میں 9.2 فیصد ترقی دیکھی گئی، اور نجی شعبے میں ملازمتوں کی شرح قومی اوسط سے دوگنی رہی۔

ٹول ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کو شہر کے ٹرانسپورٹ سسٹم کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا:

ایل آئی آر آر (LIRR) اور میٹرو نارتھ: 300 نئی ٹرین بوگیاں خریدی جائیں گی۔

سب وے سسٹم: 400 سے زائد نئی سب وے کاریں شامل کی جائیں گی اور 23 اسٹیشنوں تک رسائی کو بہتر بنایا جائے گا۔

اے (A) اور سی (C) لائنوں کے سگنل سسٹم کو جدید بنایا جائے گا اور سیکنڈ ایونیو سب وے کے اگلے مرحلے پر کام شروع ہوگا۔

نیویارک میں کنجیشن پرائسنگ کا آغاز 5 جنوری 2025 کو ہوا تھا۔ اس پالیسی کے تحت مین ہٹن میں 60 ویں اسٹریٹ سے نیچے گاڑی چلانے والوں سے مصروف اوقات (On-peak hours) کے دوران 9 ڈالر ٹول ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔

اگرچہ گورنر معاشی ترقی کا دعویٰ کر رہی ہیں، تاہم مقامی کاروباری مالکان کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ اس ٹیکس کی وجہ سے انہیں مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *