کینبرا: آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون کے بعد اسنیپ چیٹ نے پیر کے روز بتایا کہ اس نے اب تک 4 لاکھ 15 ہزار اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں۔ تاہم، کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ کچھ نوجوان اب بھی عمر کی تصدیق کے نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
قانون اور جرمانہ: آسٹریلیا میں 10 دسمبر سے نافذ العمل ہونے والے قانون کے تحت اسنیپ چیٹ، میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کو 16 سال سے کم عمر صارفین کو اکاؤنٹ رکھنے سے روکنا لازمی ہے۔ اگر کمپنیاں اس قانون پر عمل درآمد کے لیے “مناسب اقدامات” کرنے میں ناکام رہیں تو انہیں 49.5 ملین آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 34 ملین امریکی ڈالر) تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسنیپ چیٹ کا کہنا ہے کہ عمر کا اندازہ لگانے والی موجودہ ٹیکنالوجی میں 2 سے 3 سال کا فرق ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ 16 سال سے کم عمر بچے پابندی سے بچ سکتے ہیں، جبکہ 16 سال سے زائد عمر کے کچھ افراد کا رسائی غلطی سے بند ہو سکتی ہے۔
اسنیپ چیٹ اور میٹا نے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایپ اسٹورز (گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور) کو پابند کرے کہ وہ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے صارف کی عمر کی تصدیق کریں۔ اسنیپ چیٹ کے مطابق ایپ اسٹور کی سطح پر تصدیق کا مرکزی نظام زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسنیپ چیٹ نے اس مکمل پابندی کے طریقہ کار سے اختلاف کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اسنیپ چیٹ بنیادی طور پر ایک میسجنگ ایپ ہے جسے نوجوان قریبی دوستوں اور خاندان سے رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق، نوجوانوں کو ان رشتوں سے کاٹ دینا انہیں زیادہ محفوظ یا خوش نہیں بنائے گا۔
آسٹریلیا کے آن لائن ریگولیٹر (eSafety) کے مطابق، گزشتہ ماہ تک مختلف ٹیک کمپنیوں نے مجموعی طور پر 4.7 ملین مشکوک اکاؤنٹس بلاک کیے ہیں۔
