واشنگٹن وینزویلا کی نگرانی مؤثرانداز میں جاری رکھےگا،ٹرمپ

جنرل کین نے بتایا کہ مختلف امریکی اداروں کے درمیان تعاون کا عمل کئی ماہ پہلے شروع ہوا تھا

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی صدر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا کی نگرانی اس وقت تک مؤثر انداز میں جاری رکھے گا جب تک اُن کے بقول ایک محفوظ اور منظم انتقالِ اقتدار ممکن نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں امریکی فوج کا کوئی اہلکار ہلاک نہیں ہوا اور خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ دوسری، کہیں زیادہ بڑی فوجی کارروائی کے لیے بھی تیار ہے۔

150 سے زائد طیاروں کی شرکت، امریکی فوجی سربراہ
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے آپریشن ایبسولیُوٹ ریزولو (Operation Absolute Resolve) کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشن ’’مہینوں کی منصوبہ بندی اور مشقوں کا نتیجہ‘‘ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس نوعیت کی کارروائیاں خارج از امکان نہیں۔

جنرل کین نے بتایا کہ مختلف امریکی اداروں کے درمیان تعاون کا عمل کئی ماہ پہلے شروع ہوا تھا اور یہ فضائی، زمینی، خلائی اور بحری کارروائیوں کو یکجا کرنے کے دہائیوں کے تجربے پر مبنی تھا۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے نگرانی کی، ہم نے انتظار کیا، ہم نے تیاری کی۔ ہم صبر اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کے ساتھ آگے بڑھے۔‘‘
اس مشن میں مغربی نصف کرے میں 150 سے زائد طیارے شامل تھے، جن میں ایف-22، ایف-35، ایف-18، ای اے-18، ای-2، بی-1 بمبار، معاون طیارے اور متعدد ڈرونز شامل تھے۔

جنرل کین کے مطابق امریکی فورسز رات 1 بج کر 01 منٹ (ای ایس ٹی) پر صدر مادورو کی رہائش گاہ پہنچیں، علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے لیا گیا اور ’’تیزی، درستگی اور نظم و ضبط‘‘ کے ساتھ ہدف حاصل کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ہفتے کی رات ایک کارروائی میں وینزویلا پر حملہ کر کے طویل عرصے سے برسراقتدار صدر نکولس مادورو کو معزول کر دیا۔ ان کے مطابق یہ 1989 میں پاناما پر امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکا میں واشنگٹن کی سب سے براہِ راست فوجی مداخلت ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا،
’’ریاستہائے متحدہ نے وینزویلا اور اس کے رہنما صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑی کارروائی کامیابی سے مکمل کی ہے۔ مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘‘
وینزویلا کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ کارروائی امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے کی گئی۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر کہا،
’’وینزویلا کے لیے ایک نیا سویرا! ظالم حکمران ختم ہو چکا ہے اور اب وہ اپنے جرائم کا سامنا کرے گا۔‘‘

مزید کارروائی کا امکان نہیں، امریکی سینیٹر
امریکی سینیٹر مائیک لی نے کہا کہ ملک نے اپنی فوجی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ انہوں نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حوالے سے کہا کہ مادورو کے امریکی تحویل میں آنے کے بعد وینزویلا میں مزید کسی کارروائی کی توقع نہیں۔

وینزویلا کی اپوزیشن، جس کی قیادت ماریا کورینا ماچاڈو کر رہی ہیں، نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ان واقعات پر فی الحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کر رہی۔

کاراکاس میں دھماکے، وینزویلا کا الزام
اس سے قبل وینزویلا نے امریکہ پر شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ دارالحکومت کاراکاس میں متعدد دھماکوں اور نچلی پرواز کرنے والے طیاروں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد کئی علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی۔

وینزویلا کی حکومت کے مطابق رات تقریباً دو بجے دارالحکومت میں کم از کم سات دھماکے سنے گئے، جبکہ مختلف ریاستوں میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

کاراکاس میں ایک فوجی اڈے کے ہینگر سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جبکہ ایک اور فوجی تنصیب میں بجلی بند ہو گئی۔ متعدد علاقوں میں خوفزدہ شہری گھروں سے باہر نکل آئے۔

21 سالہ دفتری ملازمہ کارمن ہڈالگو نے کہا،’’زمین ہل گئی، یہ خوفناک تھا۔ ہم نے دھماکوں اور جہازوں کی آوازیں سنیں، ایسا لگا جیسے ہوا ہم سے ٹکرا رہی ہو۔‘‘

امریکی صدر اس سے قبل وینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کا بھی اظہار کر چکے تھے۔ پیر کو انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے وینزویلا کی منشیات بردار کشتیوں کے ایک اڈے کو تباہ کر دیا ہے۔

جنوری 2 کو صدر مادورو نے کہا تھا کہ ’’امریکہ کا اصل مقصد وینزویلا کے تیل، سونے، نایاب معدنیات اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔‘‘

ٹرمپ انتظامیہ مادورو پر منشیات کے کارٹیل کی قیادت کا الزام عائد کرتی رہی ہے، جس کی مادورو تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر پر قبضے کے لیے ان کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔

امریکہ نے وینزویلا پر دباؤ بڑھاتے ہوئے فضائی حدود محدود کیں، مزید پابندیاں عائد کیں اور وینزویلا کا تیل لے جانے والے ٹینکروں کو ضبط کرنے کے احکامات دیے۔

امریکی افواج ستمبر سے اب تک کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں متعدد کارروائیاں کر چکی ہیں، جن کا ہدف واشنگٹن کے مطابق منشیات اسمگلرز تھے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *