نیویارک : نیویارک کے نو منتخب میئر زہران مامدانی نے شہر کے نظم و نسق میں عام شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئے ایگزیکٹو آفس ‘میئرز آفس آف ماس انگیجمنٹ’ کے قیام کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے انتظامیہ کے اہم عہدوں پر نئی تقرریاں بھی کی ہیں۔
میئر زہران مامدانی نے بروکلین کے گرینڈ آرمی پلازہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ اس نئے دفتر کا مقصد نیویارک کے شہریوں اور سٹی ہال کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنا ہے۔
یہ ادارہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پالیسی سازی میں صرف بڑے سرمایہ کاروں کی نہیں بلکہ عام محنت کشوں کی رائے کو بھی اہمیت دی جائے۔
یہ نیا دفتر سٹی ہال کے موجودہ عوامی رابطہ یونٹس، ‘نیویارک سروس’ اور ‘سوک انگیجمنٹ کمیشن’ جیسے اداروں کی نگرانی کرے گا۔
میئر نے اپنی ٹیم میں تجربہ کار اور سماجی کارکنوں کو جگہ دی ہے:
تاشا وان آکن (Tascha Van Auken): انہیں ‘آفس آف ماس انگیجمنٹ’ کی پہلی کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ تاشا نے زہران مامدانی کی انتخابی مہم میں لاکھوں رضاکاروں کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
علی نجمی (Ali Najmi): میئر نے نامور سول رائٹس وکیل علی نجمی کو عدلیہ سے متعلق میئر کی مشاورتی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔
اس سے قبل میئر نے مائیک فلن کو محکمہ ٹرانسپورٹ (DOT) کا کمشنر اور کمار سیموئلز کو اسکولز چانسلر نامزد کیا تھا۔
اس موقع پر میئر زہران مامدانی کا کہنا تھا:”بہت طویل عرصے سے سٹی ہال صرف دولت مندوں اور بااثر افراد کی آواز سنتا رہا ہے جبکہ عام نیویارکرز حکومت سے کٹے ہوئے ہیں۔ آفس آف ماس انگیجمنٹ اس نظام کو بنیادی طور پر بدل دے گا اور حکومت کو براہِ راست عوام کی دہلیز تک لے جائے گا۔”
