نیویارک: نیو یارک کے نومنتخب میئر زوہران ممدانی کی حلف برداری کی تقریبات کا آغاز نصف شب ہوا، جہاں نیو یارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے انہیں عہدے کا حلف دلایا۔
ممدانی نے اس موقع پر قرآنِ پاک پر حلف اٹھایا، جس کے ساتھ ہی وہ نیو یارک سٹی کے پہلے مسلم میئر اور قرآن پر حلف لینے والے پہلے میئر بن گئے،
عوامی حلف برداری کی تقریب میں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کے علاوہ ممدانی کی پرجوش حامی اور ترقی پسند ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے افتتاحی خطاب کیا۔ اوکاسیو کورٹیز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیو یارک سٹی کے لیے “ایک نئے دور” کے آغاز کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ نیو یارک کے عوام نے “ناقابلِ برداشت اور غیر معمولی حالات” کے جواب میں تاریخی اور جرات مندانہ قیادت کا انتخاب کیا ہے۔
اوکاسیو کورٹیز کے مطابق،”نیو یارک نے یونیورسل چائلڈ کیئر، سستے کرائے اور رہائش، اور سب کے لیے صاف، باعزت عوامی ٹرانسپورٹ کے حصول کا راستہ چنا ہے۔ ہم نے یہ راستہ تعصب اور شدید معاشی ناہمواری جیسے خلفشار پر فوقیت دیتے ہوئے اختیار کیا ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہی درست فیصلہ ہے۔”
ممدانی کی عوامی حلف برداری کی تقریب دوپہر ایک بجے منعقد ہوئی، جسے ان کی عبوری ٹیم کے مطابق “تمام نیو یارکرز” کے لیے کھلا رکھا گیا، جبکہ اس کے بعد براڈوے پر ایک بڑے افتتاحی بلاک پارٹی کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیو یارک سٹی کے اسلامک سینٹر کے امام، خالد لطیف نے کہا،”ہم آج یہاں اس شہر کی روح کے ساتھ جمع ہیں، اس کے محلوں کے شور، اس کی سب ویز اور عبادت گاہوں، ان خوابوں کے ساتھ جو مختلف زبانوں میں زندہ ہیں، اور ان دعاؤں کے ساتھ جو ہجوم زدہ گلیوں میں سرگوشیوں کی صورت ادا کی جاتی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا،”ہم نیو یارک سٹی کا شکر ادا کرتے ہیں، ایک ایسا شہر جس نے دنیا کو سکھایا کہ اختلاف طاقت بن سکتا ہے، بقا یکجہتی میں بدل سکتی ہے، اور اجنبی ہمسائے بن سکتے ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جس نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ ایک نوجوان مہاجر، جمہوری سوشلسٹ مسلمان نہ صرف انتخاب لڑنے کی جرات رکھ سکتا ہے بلکہ کامیابی بھی حاصل کر سکتا ہے اپنی شناخت کو چھوڑ کر نہیں بلکہ اسی پر ڈٹے رہ کر۔”
یہ بلاک پارٹی براڈوے کے تاریخی علاقے کینیئن آف ہیروز میں منعقد کی گئی۔
واضح رہے کہ 34 سالہ زوہران ممدانی کو نومبر میں ہونے والے انتخابات میں نیو یارک کے عوام نے ملک کے سب سے بڑے شہر کی قیادت کے لیے منتخب کیا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے مہنگائی اور عوامی سہولیات کو مرکزی نکتہ بنایا اور اسرائیل مخالف بیانات، سوشلسٹ پالیسیوں، کرایوں کے انجماد، سرکاری گروسری اسٹورز، پولیس فنڈنگ اور نجی ملکیت سے متعلق ماضی کے متنازع خیالات پر ہونے والی تنقید کا بھی کامیابی سے مقابلہ کیا۔
گزشتہ ماہ اپنی فتح کی تقریر میں سابق گورنر اینڈریو کومو اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلوا کو شکست دینے کے بعد ممدانی نے کہا،”کئی دہائیوں سے نیو یارک کے محنت کش عوام کو امیروں اور طاقتور طبقے کی جانب سے یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ اختیار ان کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے۔ گوداموں میں بوجھ اٹھانے سے زخمی انگلیاں، ڈیلیوری بائیکس کے ہینڈلز سے سخت ہتھیلیاں، اور باورچی خانوں میں جلنے سے داغ دار ہاتھ یہ وہ ہاتھ ہیں جنہیں کبھی طاقت تھامنے کا موقع نہیں دیا گیا۔”
انہوں نے مزید کہا،”لیکن گزشتہ بارہ مہینوں میں آپ نے کچھ بڑا حاصل کرنے کی جرات کی۔ آج رات، تمام تر مشکلات کے باوجود، ہم نے وہ طاقت حاصل کر لی ہے۔ مستقبل اب ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ میرے دوستو، ہم نے ایک سیاسی خاندان کی حکمرانی کا خاتمہ کر دیا ہے۔”
