عالمی تقسیم تنازعات اور مہاجرین کے بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے، اقوامِ متحدہ کے سبکدوش سربراہ کا انتباہ

دنیا بھر میں عوامی سیاست کرنے والے رہنما مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ اپناتے ہوئے انہیں قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں۔

Editor News

جنیوا: اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے سبکدوش ہونے والے سربراہ فلپّو گرانڈی نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور جغرافیائی سیاست کی ٹوٹ پھوٹ عالمی تنازعات اور انسانی بحرانوں کو مزید سنگین بنا رہی ہے، جس کے باعث جان بچانے کے لیے ہجرت کرنے والے افراد کے خلاف دشمنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اپنے دس سالہ دورِ قیادت کے اختتام پر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے فلپّو گرانڈی نے کہا کہ سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ دنیا اب تنازعات حل کرنے کے قابل نہیں رہی اور نہ ہی ان کے نتائج سے نمٹنے کی خواہش رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی نظام امن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

اطالوی سفارتکار فلپّو گرانڈی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ مختلف ممالک میں پناہ گزینوں اور مہاجرین کو روکنے کے لیے قوانین اور پالیسیوں کو سخت سے سخت تر بنایا جا رہا ہے، جسے انہوں نے ’’نچلی سطح کی دوڑ‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں عوامی سیاست کرنے والے رہنما مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ اپناتے ہوئے انہیں قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں۔

جنیوا میں یو این ایچ سی آر کے صدر دفتر میں اپنی مدت کے آخری دن خطاب کرتے ہوئے گرانڈی نے کہا کہ سیاسی رکاوٹوں کے باوجود عام لوگوں میں آج بھی مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کا جذبہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں عام افراد کی جانب سے مہاجرین کے ساتھ ہمدردی اور مہمان نوازی ان کے لیے حوصلہ افزا رہی ہے۔

انہوں نے بعض مثبت مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2021 میں کولمبیا کے سابق صدر ایوان ڈیوکے کی جانب سے 17 لاکھ وینزویلا کے شہریوں کو قانونی حیثیت دینا ایک قابلِ تقلید اقدام تھا۔ اسی طرح حالیہ دنوں میں لبنان اور شام کی سرحد پر ان افراد سے ملاقات بھی متاثر کن رہی جنہوں نے اسد حکومت کے خاتمے کے بعد وطن واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

تاہم گرانڈی نے کہا کہ ان خوشگوار لمحات کے ساتھ ساتھ انہیں شدید غم اور غصے کا سامنا بھی کرنا پڑا، خاص طور پر جب میانمار اور سوڈان جیسے ممالک میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھی گئی۔

فلپّو گرانڈی جمعرات کو یو این ایچ سی آر کی قیادت سابق عراقی صدر برہم صالح کے حوالے کریں گے، جو خود بھی ماضی میں مہاجر رہ چکے ہیں۔ گرانڈی نے امید ظاہر کی کہ برہم صالح ادارے کے لیے ایک مؤثر رہنما ثابت ہوں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ذمہ داری نہایت مشکل ہو گی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ایسے وقت میں عہدہ چھوڑنا انتہائی تکلیف دہ ہے جب یو این ایچ سی آر شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں واپسی کے بعد امریکہ سمیت کئی بڑے عطیہ دہندگان نے عالمی امداد میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس کے باعث ادارے کو اپنے ڈھانچے اور خدمات میں شدید کٹوتی کرنا پڑی۔

گرانڈی کے مطابق ادارے کو اپنی مجموعی صلاحیت میں تقریباً ایک تہائی کمی کرنا پڑی جبکہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مہاجرین، بے گھر افراد اور بے وطن لوگوں کے لیے فراہم کی جانے والی امداد میں نمایاں کمی کی گئی۔

یو این ایچ سی آر کے اندازے کے مطابق جون تک دنیا بھر میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد 11 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو گزشتہ دس برسوں میں تقریباً دگنی ہو گئی ہے۔

فلپّو گرانڈی نے اقوامِ متحدہ پر تنقید کو غلط سمت میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اصلاحات ضروری ہیں، مگر کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی تعاون کو کمزور کرنا دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ’’میرا ملک سب سے پہلے‘‘ جیسے نعروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مسائل کا حل اجتماعی کوششوں کے بغیر ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک، حتیٰ کہ امریکہ بھی، اکیلے ان چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتا، اور اگر دنیا نے مل کر کام نہ کیا تو اس کے نتائج سب کو بھگتنا ہوں گے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *