تحریر: شمائلہ
اقوامِ متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں گزشتہ دو برس کے دوران “منظم اور وسیع پیمانے پر تشدد” ایک عملی ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر چکا ہے، جبکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو جنگی جرائم پر مکمل استثنیٰ حاصل ہونے پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
جمعے کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں، جو اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ تشدد پر دستخط کرنے والے ممالک کی باقاعدہ نگرانی کا حصہ ہے، اقوامِ متحدہ کی کمیٹی نے “شدید مارپیٹ، کتوں سے حملے، برقی جھٹکے، واٹر بورڈنگ، طویل اذیت ناک پوزیشنز میں باندھے رکھنا اور جنسی تشدد” جیسے الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ فلسطینی قیدیوں کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے “انہیں جانوروں کی طرح برتاؤ پر مجبور کیا جاتا ہے یا ان پر پیشاب کیا جاتا ہے”، انہیں طبی سہولتوں سے محروم رکھا جاتا ہے، اور پابندیوں کا حد سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں “بعض کیسز میں اعضا تک ضائع ہو چکے ہیں”۔
بڑے پیمانے پر بغیر مقدمہ حراست پر تشویش
اقوامِ متحدہ کی کمیٹی نے اسرائیل کے غیر قانونی لڑاکا قانون کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی، جس کے تحت ہزاروں فلسطینی مرد، خواتین اور بچوں کو بغیر مقدمہ طویل عرصے تک حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی انسانی حقوق تنظیم بتسلیم کے مطابق ستمبر کے آخر تک 3,474 فلسطینی “انتظامی حراست” میں تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ دو برس، یعنی 7 اکتوبر 2023 کو غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک، بڑی تعداد میں فلسطینی بچوں کو بغیر الزام یا ریمانڈ کے حراست میں رکھا گیا ہے، حالانکہ اسرائیل میں فوجداری ذمہ داری کی عمر 12 سال ہے — اور اس سے کم عمر بچوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔
کمیٹی کے مطابق سیکورٹی قیدیوں میں شامل بچوں کو خاندان سے رابطے کی سخت پابندیوں، ممکنہ طور پر تنہائی میں رکھنے، اور تعلیم سے محرومی کا سامنا ہے، جو بین الاقوامی معیار کی خلاف ورزی ہے۔ کمیٹی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ بچوں کو تنہائی میں رکھنے کی اجازت دینے والے قوانین میں فوری ترمیم کی جائے۔
“اسرائیلی پالیسیوں کا مجموعی اثر بھی تشدد کے مترادف”
اقوامِ متحدہ کی کمیٹی نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں روزمرہ کی بنیاد پر نافذ کی جانے والی اسرائیلی پالیسیوں کا مجموعی اثر بھی “تشدد کے برابر ہو سکتا ہے”۔
رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے دوران 75 فلسطینی قیدی حراست میں ہلاک ہوئے، جبکہ اس عرصے میں فلسطینی قیدیوں کے حالاتِ حراست میں “نمایاں بگاڑ” آیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد “غیر معمولی حد تک زیادہ ہے اور صرف فلسطینی قیدیوں ہی کو متاثر کرتی ہے” — اور اب تک کسی بھی اسرائیلی اہلکار کو ان ہلاکتوں پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔
اسرائیل کی تردید — مگر شواہد کے بغیر
اسرائیل کی حکومت نے ایک بار پھر تشدد کے استعمال کی تردید کی۔ اقوامِ متحدہ کی کمیٹی نے اسرائیلی وزارتِ خارجہ، وزارتِ انصاف اور جیل حکام کے نمائندوں کے بیانات سنے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ حراستی مراکز کے حالات مناسب اور نگرانی کے تحت ہیں۔
تاہم کمیٹی نے نشاندہی کی کہ گزشتہ دو برس میں تحقیقات کے نگران ادارے نے تشدد یا بدسلوکی کے کسی بھی معاملے میں ایک بھی مقدمہ درج نہیں کیا، باوجود اس کے کہ ایسی شکایات عام ہیں۔ دو سال میں صرف ایک اسرائیلی فوجی کو تشدد کے جرم میں سزا دی گئی — جس نے بندھے اور آنکھوں پر پٹی بندھے غزہ کے قیدیوں کو بار بار مارا تھا — لیکن سات ماہ کی سزا کو کمیٹی نے “جرم کی سنگینی کے مقابلے میں ناکافی” قرار دیا۔
