روم: اقوامِ متحدہ کے ہجرت سے متعلق ادارے (IOM) نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ بحیرہ روم کے وسطی حصے میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے متعدد بحری حادثات کے نتیجے میں سینکڑوں تارکینِ وطن سمندر میں لاپتہ یا ہلاک ہو گئے ہیں۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) نے ان رپورٹس پر “شدید تشویش” کا اظہار کیا ہے جن کی فی الوقت تصدیق کی جا رہی ہے۔
ادارے کے مطابق گزشتہ 10 دنوں کے دوران کئی کشتیاں ان حادثات کا شکار ہوئی ہیں۔ ترجمان جارج گالینڈو کا کہنا ہے کہ “23 اور 25 جنوری کو تین بحری حادثات کی اطلاع ملی ہے جن میں کم از کم 100 اموات ہوئیں۔”
سب سے زیادہ دلخراش واقعہ اٹلی کے جزیرے لیمپیڈوسا (Lampedusa) کے قریب پیش آیا جہاں تیونس سے آنے والی ایک کشتی میں سوار ایک سالہ جڑواں بچیاں اور ایک شخص اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ‘ہائپوتھرمیا’ (شدید سردی سے جسمانی درجہ حرارت گرنے) کی وجہ سے دم توڑ گئے۔
آئی او ایم کا کہنا ہے کہ یہ حادثات اس وقت پیش آئے جب خطے میں سمندری طوفان ‘ہیری’ (Cyclone Harry) موجود تھا۔ ادارے نے انسانی اسمگلرز کے نیٹ ورک کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
“سمندری طوفان کے دوران لوگوں کو زبردستی اور کھچا کھچ بھری ہوئی خستہ حال کشتیوں میں سمندر میں بھیجنا ایک مجرمانہ فعل ہے، جو کہ جان بوجھ کر موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔”
14 سے 21 جنوری کے درمیان تیونس سے روانہ ہونے والی 9 کشتیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جن پر تقریباً 380 افراد سوار تھے۔
بحیرہ روم کا وسطی راستہ تارکینِ وطن کے لیے دنیا کا مہلک ترین راستہ ہے جہاں صرف پچھلے سال (2025) کم از کم 1,340 افراد ہلاک ہوئے۔
2014 سے 2025 کے اختتام تک اس سمندری راستے پر 33,000 سے زائد تارکینِ وطن لقمہ اجل بن چکے ہیں یا لاپتہ ہیں۔
ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے ان نیٹ ورکس کو توڑنے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کرے۔
