ٹرمپ انتظامیہ کا حکومتی ڈیٹا یکجا کرنے کا منصوبہ

اس لیے ڈیٹا کے غلط استعمال اور اسے تجارتی مقاصد کے لیے بیچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے

Editor News

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ اقتدار کے پہلے ہی دن “محکمہ برائے حکومتی کارکردگی” (DOGE) قائم کیا، جس کا مقصد فضول خرچی اور دھوکہ دہی کا خاتمہ ہے۔ تاہم، اس مہم کے دوران حکومتی ایجنسیوں کے تمام سافٹ ویئر اور آئی ٹی سسٹمز تک مکمل رسائی کے مطالبے نے رازداری کے ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں حکومتی ایجنسیوں کے درمیان ڈیٹا کی تقسیم پر پابندی کی ٹھوس وجوہات رہی ہیں:

1942 میں امریکی مردم شماری کے ڈیٹا کے استعمال سے ہی جاپانی نژاد امریکیوں کی نشاندہی اور انہیں قید کرنا ممکن ہوا تھا۔

1970 کی دہائی میں صدر رچرڈ نکسن نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ٹیکس (IRS) اور دیگر ایجنسیوں کا ڈیٹا استعمال کیا۔ اس اسکینڈل کے بعد 1974 کا پرائیسی ایکٹ منظور کیا گیا، جو ایجنسیوں کو بغیر اجازت ذاتی معلومات بانٹنے سے روکتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان حفاظتی قوانین کو کمزور کر دیا ہے:

مارچ 2025 میں ٹرمپ نے ایجنسیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے الگ الگ ڈیٹا بیس ختم کر کے معلومات یکجا کریں۔
امیگریشن حکام (ICE) نے ٹیکس دہندگان کے نام اور پتے حاصل کرنے کے لیے معاہدے کیے تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی میں آسانی ہو، جسے بعد میں عدالت نے عارضی طور پر روک دیا۔

سپریم کورٹ نے ‘DOGE’ کو سوشل سیکیورٹی ڈیٹا تک رسائی دے دی ہے، جبکہ ریاستوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ راشن امداد حاصل کرنے والوں کا ڈیٹا شیئر کریں۔

حمایتی موقف: واشنگٹن میں قائم “ڈیٹا فاؤنڈیشن” جیسے اداروں کا کہنا ہے کہ ایجنسیوں کے درمیان معلومات کے تبادلے سے انتظامی بوجھ کم ہوگا، اخراجات میں بچت ہوگی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔ ان کے نزدیک ڈیٹا شیئرنگ ایک غیر سیاسی اور مفید عمل ہے۔

امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) کے مطابق، ایک بار ایسا نظام بن گیا تو مستقبل کا کوئی بھی صدر (چاہے ڈیموکریٹ ہو یا ریپبلکن) اسے اپنے سیاسی مقاصد یا مخالفین کی نگرانی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

حکومت نے ڈیٹا مائننگ فرم ‘پلانٹیر’ (Palantir) جیسی نجی کمپنیوں کو ٹھیکے دیے ہیں۔ چونکہ نجی کمپنیاں شفافیت کے قوانین (Freedom of Information) کے پابند نہیں ہوتیں، اس لیے ڈیٹا کے غلط استعمال اور اسے تجارتی مقاصد کے لیے بیچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیٹا یکجا کرنے کو ایک “ڈھال اور تلوار” کے طور پر استعمال کر رہی ہے: یعنی ایک طرف اپنی کارروائیاں تیز کرنے کے لیے اور دوسری طرف عوامی جانچ پڑتال سے بچنے کے لیے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو 1974 کے پرائیسی ایکٹ جیسے حفاظتی اقدامات مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں، جس سے ہر امریکی شہری کی نجی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *