جنیوا: جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں جاری شدید تنازع کے پس منظر میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ لڑائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی، تحفظ کے نظام کی کمزوری اور پہلے سے موجود سنگین انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے، جس کے باعث بچے تشدد، استحصال اور دیرپا ذہنی صدمات کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
یونیسف نے فوری جنگ بندی اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازع سے پیدا ہونے والی غربت اور نقل مکانی ملک بھر میں بچوں کے خلاف تشدد کو بڑھا رہی ہے۔
یونیسف کی رپورٹ “The Hidden Scars of Conflict and Silence” کے مطابق، بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات ملک کے ہر صوبے میں رپورٹ ہوئے ہیں، جو اس بحران کے محاذِ جنگ سے کہیں آگے پھیلنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ کیسز مشرقی صوبوں نارتھ کیوو، ساؤتھ کیوو اور ایتوری میں سامنے آئے ہیں، جہاں بدامنی، بے گھری اور کمزور حفاظتی نظام بچوں کو انتہائی غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔
قابلِ ذکر تعداد دارالحکومت کنشاسا اور کاسائی کے علاقوں میں بھی رپورٹ ہوئی ہے، جہاں غربت، غذائی قلت اور اسکول چھوڑنے کی بلند شرح بچوں کو استحصال، کم عمری کی شادی اور تشدد کے خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔
چائلڈ پروٹیکشن اور صنفی تشدد سے متعلق اداروں کے مطابق، صرف 2025 کے پہلے نو ماہ میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے 35 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ 2024 میں یہ تعداد تقریباً 45 ہزار تھی، جو 2022 کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے، اور ملک میں رپورٹ ہونے والے مجموعی جنسی تشدد کے کیسز کا لگ بھگ 40 فیصد بنتی ہے۔
یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ خوف، سماجی بدنامی، عدم تحفظ اور خدمات تک محدود رسائی کے باعث بہت سے متاثرہ بچے رپورٹ ہی نہیں کر پاتے۔
رپورٹ میں اعداد و شمار کے ساتھ متاثرہ بچوں کی گواہیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو ظاہر کرتی ہیں کہ ہر عدد ایک ایسی زندگی کی نمائندگی کرتا ہے جو تشدد سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ متاثرین شرمندگی، تنہائی اور ذہنی صدمے کا ذکر کرتے ہیں، تاہم ساتھ ہی عزت اور امید کی بحالی کے عزم کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کے مطابق،
“سماجی کارکن ایسے واقعات بیان کرتے ہیں جہاں مائیں گھنٹوں پیدل سفر کر کے اپنی بیٹیوں کو کلینک تک لاتی ہیں۔ خوف اور بدنامی کی وجہ سے اکثر خاندان شکایت درج نہیں کرواتے۔ یہ کہانیاں مختلف صوبوں میں دہرائی جا رہی ہیں، جو عدم تحفظ، عدم مساوات اور کمزور نظام کی عکاسی کرتی ہیں۔”
اعداد و شمار کے مطابق نوعمر لڑکیاں متاثرہ بچوں میں سب سے بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ہیں، تاہم لڑکے بھی اس تشدد کا شکار ہوتے ہیں، مگر سماجی دباؤ کے باعث ان کی رپورٹنگ کم ہے۔ معذور بچوں کو بھی زیادہ خطرات لاحق ہیں، کیونکہ جسمانی اور سماجی رکاوٹیں ان کی کمزوری میں اضافہ کرتی ہیں اور انصاف تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔
بحران کی شدت بچوں کی اپنی آوازوں میں بھی جھلکتی ہے۔
“میرا کردار کسی مسلح تنازع میں نہیں ہونا چاہیے،” ڈی آر سی کے ایک بچے نے عالمی رہنماؤں کے نام پیغام میں لکھا۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ وینیسا فریزر نے 2025 کے اختتام پر خبردار کیا کہ ڈی آر سی اور دیگر تنازعات سے متاثرہ ممالک میں بچوں کو پورے سال شدید تشدد کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ 2024 پہلے ہی گزشتہ تقریباً 30 برسوں کا بدترین سال تھا، اور ایسے مظالم کو معمول بننے نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے ڈی آر سی کے ساتھ غزہ، ہیٹی، میانمار، نائجیریا، صومالیہ، سوڈان اور یوکرین کا بھی حوالہ دیا، جہاں 2025 میں بھی بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیاں جاری رہیں۔
اگرچہ یونیسف اور شراکت دار اداروں نے 2022 سے 2024 کے درمیان امدادی سرگرمیوں میں اضافہ کیا اور گزشتہ سال 24 ہزار سے زائد بچوں تک رسائی حاصل کی، تاہم بدامنی اور عالمی سطح پر فنڈنگ میں کمی کے باعث کئی محفوظ مراکز اور موبائل کلینکس بند ہو چکے ہیں۔
2025 کے وسط تک صنفی تشدد سے نمٹنے کے صرف 23 فیصد پروگرامز کو فنڈز مل سکے، جس کے نتیجے میں مشرقی علاقوں میں تقریباً 3 لاکھ بچے ضروری خدمات سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ایک متاثرہ بچے نے عالمی رہنماؤں کو پیغام دیتے ہوئے کہا:
“ایک محفوظ بچہ ہی محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔”
