اقوامِ متحدہ کے امن دستوں پر ڈرون حملہ: دو بنگلہ دیشی امن اہلکار شہید، 9 زخمی

اس مشن میں تقریباً 4 ہزار فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں، جن کے ساتھ سول عملہ بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔

Editor News

نیویارک/ابیئے: اقوامِ متحدہ کے روزانہ دوپہر کے بریفنگ میں نائب ترجمان فرحان حق نے صحافیوں کو بتایا کہ ہفتے کے روز اقوامِ متحدہ کے امن مشن یونیسفا (UNISFA) کے لاجسٹکس بیس کو ایک “ہولناک ڈرون حملے” کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو امن اہلکار ہلاک جبکہ نو دیگر زخمی ہو گئے۔

فرحان حق کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس نے کیا۔


ابیئے میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران شہید ہونے والے امن اہلکاروں کو سرکاری طور پر الوداع کہا گیا۔ ان کی میتیں اب بنگلہ دیش واپس بھیجی جا رہی ہیں۔ یونیسفا نے کہا کہ ان کی “امن کے لیے دی گئی قربانی کبھی فراموش نہیں کی جائے گی” اور مشن شہداء کے خاندانوں، بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے۔

نو زخمی اہلکاروں کو حملے کے روز ہی کادوگلی سے ابیئے منتقل کیا گیا، جہاں وہ یونیسفا کے اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ مشن کے مطابق زخمیوں کو مکمل اور مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا اس کی اولین ترجیح ہے۔


یونیسفا نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہلِ خانہ اور بنگلہ دیشی حکام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔


مشن نے بتایا کہ اپنے اہلکاروں اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں، جن میں کادوگلی لاجسٹکس بیس پر حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مشن کے قائم مقام سربراہ اور فورس کمانڈر میجر جنرل رابرٹ یاو افرام نے پیر کے روز کادوگلی کا دورہ بھی کیا۔

یونیسفا نے سیکریٹری جنرل کے اس پیغام کو بھی دہرایا کہ امن دستوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے اور اس کے ذمہ داروں کو لازماً جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔


یونیسفا کا قیام 2011 میں عمل میں آیا تھا اور اس کا مینڈیٹ حال ہی میں ایک سال کے لیے مزید بڑھایا گیا ہے۔ مشن کے فرائض میں متنازع اور تیل سے مالا مال خطے ابیئے میں پولیس کی صلاحیت بڑھانا، افواج کی واپسی کی نگرانی و تصدیق، انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت کاری اور شہریوں کا تحفظ شامل ہے۔

اس مشن میں تقریباً 4 ہزار فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں، جن کے ساتھ سول عملہ بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *