ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی سیاست پر غلبہ

Editor News

اسلام آباد(ویب ڈیسک): 2025ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی نے عالمی سیاست اور معیشت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے تقریباً تمام ممالک سے درآمدات پر محصولات (Tariffs) بڑھا کر عالمی معیشت کو ہلا دیا۔ ٹرمپ نے یورپی یونین کو ایک ناموافق تجارتی معاہدے پر مجبور کیا اور نیٹو ارکان سے دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ روس کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے گئے، جبکہ یوکرینی صدر زیلینسکی کے ساتھ ان کا رویہ سخت رہا۔ انہوں نے یوکرین کی امداد کے بدلے وہاں کے سٹریٹجک معدنیات تک رسائی حاصل کی۔ مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر بے دخلی شروع کی اور ‘یو ایس ایڈ’ (USAID) جیسے وفاقی اداروں کو ختم کر دیا۔

غزہ میں جنگ اور کمزور جنگ بندی
اکتوبر 2023ء میں شروع ہونے والی خونریز جنگ کے دو سال بعد، 10 اکتوبر 2025ء کو امریکہ کے دباؤ پر حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک نازک جنگ بندی عمل میں آئی۔ اس جنگ میں اب تک 69,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جنگ بندی سے قبل اسرائیل نے جون میں ایران پر حملہ کیا تھا جو 12 روزہ جنگ میں بدل گیا، جسے امریکی مداخلت نے ختم کیا۔ ستمبر میں اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا۔

روس یوکرین جنگ کا پانچواں سال
ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود روس یوکرین جنگ اپنے پانچویں سال میں داخل ہو رہی ہے۔ یوکرین نے سیکیورٹی ضمانتوں کے بدلے نیٹو میں شمولیت کا ارادہ ترک کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن ڈونیٹسک اور لوہانسک کے علاقوں پر کنٹرول کا مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے۔ 2025ء کے دوران یوکرین نے روسی تیل کی تنصیبات پر کامیاب حملے کیے۔

جرمنی میں دائیں بازو کی قوتوں کا عروج
جرمنی میں فروری 2025ء کے قبل از وقت انتخابات کے نتیجے میں عیسائی ڈیموکریٹس (CDU-CSU) دوبارہ برسرِ اقتدار آئے۔ فریڈرک میرز ملک کے نئے چانسلر بنے۔ تاہم، ان انتخابات کی سب سے بڑی خاص بات انتہائی دائیں بازو کی جماعت ‘AfD’ کی غیر معمولی کامیابی تھی، جس نے 20.7 فیصد ووٹ لے کر پارلیمنٹ میں 152 نشستیں حاصل کیں۔

فرانس میں سیاسی بحران
فرانس 1958ء کے بعد کے بدترین سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔ صدر میکرون نے ایک سال میں چار اقلیتی حکومتیں تبدیل کیں۔ بجٹ تنازعات اور پارلیمنٹ میں کسی بھی بلاک کی واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے حکومتیں چند ماہ یا ہفتوں سے زیادہ نہ چل سکیں۔

یورپی یونین میں بدعنوانی کا اسکینڈل
2025ء کے آخر میں یورپی یونین کی سابق خارجہ پالیسی چیف فیڈریکا موگیرینی کی گرفتاری نے برسلز کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان پر سفارت کاروں کی تربیت کے پروگرام میں بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ اسکینڈل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین پہلے ہی “قطر گیٹ” اور چینی کمپنی ہواوے سے متعلق تحقیقات کا سامنا کر رہی ہے۔

امریکہ میں چارلی کرک کا قتل
10 ستمبر کو یوٹاہ کی ایک یونیورسٹی میں ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور دائیں بازو کے کارکن چارلی کرک کو قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے نے امریکہ میں سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔ ٹرمپ نے انہیں بعد از مرگ صدارتی تمغہ برائے آزادی عطا کیا اور بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا۔

ویٹیکن میں نئے پوپ کا انتخاب
پوپ فرانسس کی وفات کے بعد مئی 2025ء میں امریکی نژاد ‘لیو چہارم’ (Leo XIV) کو نیا پوپ منتخب کیا گیا۔ وہ ویٹیکن کی تاریخ کے پہلے امریکی پوپ ہیں۔ ان کا اصل نام رابرٹ فرانسس پریوسٹ ہے اور وہ معتدل خیالات کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔

لوور میوزیم میں ڈکیتی
پیرس کے مشہور لوور میوزیم میں اکتوبر میں ایک سنسنی خیز ڈکیتی ہوئی، جہاں تعمیراتی کارکنوں کے بھیس میں ڈاکوؤں نے آٹھ منٹ کے اندر 88 ملین یورو مالیت کے شاہی جواہرات چوری کر لیے۔ پولیس نے آٹھ افراد کو گرفتار کیا لیکن چوری شدہ مال برآمد نہ ہو سکا۔

پاک بھارت ٹکراؤ
مئی 2025ء میں مقبوضہ کشمیر میں ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد پاک بھارت کشیدگی کھلی جنگ میں بدل گئی۔ بھارت نے پاکستان کے اندر “دہشت گرد بنیادی ڈھانچے” پر حملے کا دعویٰ کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے بھارتی فوجی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے اور دو بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے۔ تین دن کی شدید لڑائی کے بعد جنگ بندی ہوئی، جس کی ثالثی کا دعویٰ ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ اس تنازع کے نتیجے میں پاک بھارت پانی کا مسئلہ (سندھ طاس معاہدہ) بھی دوبارہ سنگین ہو گیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *