ٹک ٹاک کا مستقبل: امریکہ میں ملکیت کی تبدیلی اور نئے معاہدے کی تفصیلات

تمام امریکی صارفین کا ڈیٹا اب صرف اوریکل کے کلاؤڈ سرورز پر محفوظ ہوگا۔

Editor News

امریکہ (ویب ڈیسک): برسوں کی قانونی لڑائی اور سیکیورٹی خدشات کے بعد، ٹک ٹاک نے آخر کار امریکہ میں اپنے آپریشنز کو فروخت کرنے (divest) کا باضابطہ معاہدہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ٹک ٹاک کی ملکیت اب چینی کمپنی بائٹ ڈانس (ByteDance) سے منتقل ہو کر ایک امریکی سرمایہ کار گروپ کے پاس چلی جائے گی۔

ٹیک کرنچ اور ایگزیوس (Axios) کی رپورٹ کے مطابق، ایک نیا ادارہ “TikTok USDS Joint Venture LLC” تشکیل دیا گیا ہے جو امریکہ میں ایپ کے تمام معاملات سنبھالے گا۔ اس میں شامل اہم سرمایہ کاروں میں
اوریکل (Oracle): جو سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر ڈیٹا اور الگورتھم کی نگرانی کرے گا۔
سلور لیک (Silver Lake): نجی ایکویٹی فرم۔
MGX: سرمایہ کاری فرم ہیں۔

یہ گروپ مجموعی طور پر 45% حصص کا مالک ہوگا، جبکہ بائٹ ڈانس کے پاس تقریباً 20% حصہ رہ جائے گا۔ بقیہ حصے دیگر امریکی سرمایہ کاروں کے پاس ہوں گے۔ اس سودے کی کل مالیت تقریباً 14 ارب ڈالر لگائی گئی ہے۔

امریکی صارفین کے لیے سب سے بڑی تبدیلی یہ ہوگی کہ ٹک ٹاک کا مشہور الگورتھم (جو ویڈیوز تجویز کرتا ہے) اب نئے سرے سے صرف امریکی ڈیٹا پر تربیت (retrain) دیا جائے گا۔

تمام امریکی صارفین کا ڈیٹا اب صرف اوریکل کے کلاؤڈ سرورز پر محفوظ ہوگا۔

بائٹ ڈانس کا امریکی صارفین کے ڈیٹا یا الگورتھم پر کوئی اختیار نہیں ہوگا۔

یہ سودا 22 جنوری 2026ء تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

صدر ٹرمپ نے اگست 2020 میں پہلی بار بائٹ ڈانس پر پابندی کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔

2024میں صدر بائیڈن نے کانگریس سے منظور شدہ بل پر دستخط کیے جس میں ٹک ٹاک کو فروخت کرنے یا پابندی کا سامنا کرنے کا کہا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ستمبر 2025 میں پھر ایک نئے فریم ورک کی منظوری دی جس نے موجودہ فروخت کی راہ ہموار کی۔

کچھ رپورٹس کے مطابق، معاہدے کے مکمل ہونے پر موجودہ ایپ کو تبدیل کر کے ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کروایا جا سکتا ہے، تاہم ٹک ٹاک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ امریکی صارفین کے لیے ایپ کی دستیابی برقرار رہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *