ٹک ٹاک امریکی کنٹرول امریکی سرمایہ کاروں کےحوالےہونےکاامکان

معاہدے کے مطابق بائٹ ڈانس کو امریکی صارفین کے ڈیٹا یا امریکی الگورتھم تک رسائی نہیں ہوگی۔ Oracle الگورتھم کی نقل تیار کرے گا

Editor News

کیلیفورنیا(ویب ڈیسک): چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک امریکی حکومت کے ساتھ کئی سال سے تنازعات کا مرکز رہا ہے، کیونکہ امریکی حکام اس بات سے فکر مند تھے کہ صارفین کا ڈیٹا ممکنہ طور پر چینی حکومت تک پہنچ سکتا ہے۔

اب یہ تنازعہ ایک اہم مرحلے پر پہنچ چکا ہے، کیونکہ ٹک ٹاک نے امریکی سرمایہ کاروں کو اپنی امریکی شاخ کا حصہ بیچنے کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ اس ہفتے حتمی شکل اختیار کرے گا، جس کے بعد ٹک ٹاک کے امریکی صارفین امریکی سرمایہ کاروں کے کنٹرول میں ایک نئے پلیٹ فارم پر منتقل ہوں گے۔

امریکی سرمایہ کار کون ہیں؟
ٹیک کرنچ کی دستاویزات کے مطابق اس سرمایہ کاری کے گروپ میں Oracle، Silver Lake، اور MGX شامل ہیں۔ یہ گروپ ٹک ٹاک کی امریکی آپریشنز میں 45 فیصد حصص رکھے گا، جبکہ بائٹ ڈانس تقریباً 20 فیصد حصص برقرار رکھے گا۔ ذرائع کے مطابق ٹک ٹاک یو ایس کی قیمت تقریباً 14 ارب ڈالر ہے۔

نیا ادارہ، TikTok USDS Joint Venture LLC، امریکی آپریشنز کی نگرانی کرے گا، جس میں ڈیٹا پروٹیکشن، الگورتھم کی سکیورٹی، مواد کی نگرانی اور سافٹ ویئر کی جانچ شامل ہے۔ Oracle اس میں سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر کام کرے گا اور قومی سیکیورٹی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے گا۔

ڈیٹا اور الگورتھم کی رسائی:
معاہدے کے مطابق بائٹ ڈانس کو امریکی صارفین کے ڈیٹا یا امریکی الگورتھم تک رسائی نہیں ہوگی۔ Oracle الگورتھم کی نقل تیار کرے گا، اور امریکی سرمایہ کار الگورتھم کو لیز پر لے کر تربیت دیں گے۔

صارفین کے لیے کیا بدلے گا؟
بلومبرگ کے مطابق، جب یہ معاہدہ حتمی ہو جائے گا، تو موجودہ ٹک ٹاک ایپ امریکی صارفین کے لیے بند ہو جائے گی اور صارفین کو نئے پلیٹ فارم پر منتقل ہونا ہوگا۔ تاہم، نئے پلیٹ فارم کی تفصیلات، خصوصیات اور فرق ابھی واضح نہیں ہیں۔

ٹک ٹاک اور امریکی حکومت کا پس منظر:
یہ معاملہ اگست 2020 میں شروع ہوا جب صدر ٹرمپ نے بائٹ ڈانس کے ساتھ ٹرانزیکشنز پر پابندی کے احکامات دئیے۔ بعد میں امریکی انتظامیہ نے ٹک ٹاک کی امریکی شاخ فروخت کرنے کی کوشش کی، جس میں مائیکروسافٹ، Oracle اور والمارٹ شامل تھے۔ عدالت نے عارضی طور پر پابندی روکی اور ٹک ٹاک امریکی صارفین کے لیے چلتا رہا۔

بعد ازاں صدر بائیڈن کے دور میں بھی قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کے بعد اس معاملے کو حل کرنے کے لیے 50-50 شیئرنگ کے تصور پر کام کیا گیا، جس میں کئی امریکی سرمایہ کار گروپس نے دلچسپی ظاہر کی، جن میں Project Liberty، American Investor Consortium اور دیگر معروف سرمایہ کار شامل تھے۔

اب یہ تنازعہ تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے، اور ٹک ٹاک کے امریکی صارفین کے لیے ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے، جس میں پلیٹ فارم کا کنٹرول مکمل طور پر امریکی سرمایہ کاروں کے ہاتھ میں ہوگا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *