امریکا میں ’سپر فلو‘ کا خطرہ، نیا انفلوئنزا ویرینٹ تشویش کا باعث

سپر فلو اور کم ویکسینیشن ریٹ نے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

Editor News

امریکہ(ویب ڈیسک): موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں لوگوں کے بیمار پڑنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، تاہم اس بار انفلوئنزا وائرس کے ایک نئے ویرینٹ نے ماہرینِ صحت کو الرٹ کر دیا ہے، جسے ’’سپر فلو‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔

سپر فلو دراصل انفلوئنزا اے (H3N2) کی ایک نئی قسم ہے جسے سب کلیڈ K کہا جاتا ہے۔ ماضی میں H3N2 انفلوئنزا زیادہ شدید ثابت ہوا ہے اور اس سے صحتیابی میں بھی زیادہ وقت لگتا رہا ہے۔ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق، اس ویرینٹ کی ابتدا برطانیہ میں ہوئی، جس کے بعد یہ یورپ، آسٹریلیا اور پھر امریکا تک پھیل گیا۔

نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے ماہر نیل منیار کے مطابق،“برطانیہ اس وائرس سے بری طرح متاثر ہوا، جیسا کہ یورپ اور آسٹریلیا میں بھی دیکھا گیا۔ یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک وارننگ ہے کہ یہ فلو سیزن خاصا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔”

سپر فلو کی علامات
ماہرین کے مطابق، اس ویرینٹ کی علامات عام فلو جیسی ہیں، مگر شدت زیادہ ہو سکتی ہے، جن میں شامل ہیں:

تیز بخار
جسم میں شدید درد
غیر معمولی تھکن
مسلسل کھانسی
گلے میں خراش
شدید سر درد

اس کے علاوہ بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، معدے کے مسائل اور طویل کمزوری بھی رپورٹ کی گئی ہے۔

علاج اور احتیاطی تدابیر
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شدید کیسز میں اینٹی وائرل ادویات انتہائی اہم ہیں۔ CDC چار ادویات کی سفارش کرتا ہے:

ٹامی فلو (Tamiflu)
زوفلوزا (Xofluza)
ریلینزا (Relenza)
ریپی واب (Rapivab)

زوفلوزا 5 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے ابتدائی علاج میں استعمال ہوتی ہے، ریلینزا 7 سال سے زائد عمر والوں کے لیے جبکہ ریپی واب 6 ماہ یا اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے دی جا سکتی ہے۔

NYU لانگون ہیلتھ کے ڈاکٹر مارک ملیگن کے مطابق،
“زیادہ مقدار میں پانی پینا، مناسب آرام کرنا اور بخار یا درد کے لیے ٹائلینول یا ایڈول استعمال کرنا گھریلو سطح پر مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔”

ماہرینِ صحت ستمبر سے فلو کے بارے میں خبردار کر رہے تھے، مگر سپر فلو اور کم ویکسینیشن ریٹ نے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سال کی فلو ویکسین سب کلیڈ K کے لیے مکمل میچ نہیں، تاہم یہ اب بھی مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ڈاکٹر اینڈریو پیکوش کے مطابق،“ویکسین تین اقسام کے انفلوئنزا کے خلاف تحفظ دیتی ہے اور کم از کم جزوی طور پر اس نئے ویرینٹ سے بچاؤ میں مدد فراہم کرے گی۔”

CDC کے مطابق، 6 ماہ یا اس سے زائد عمر کے تمام افراد کو فلو ویکسین لگوانی چاہیے۔

سب سے زیادہ متاثرہ علاقے

CDC کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، نیو یارک، نیو جرسی، روڈ آئی لینڈ، لوزیانا اور کولوراڈو میں وائرس کی سطح ’’انتہائی بلند‘‘ ہے۔ صرف مین ہیٹن میں اس ماہ کیسز میں 104 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق، گنجان آبادی اور بین الاقوامی و مقامی سفر کے باعث نیو یارک میں کیسز میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کنیکٹیکٹ، آئیڈاہو، میساچوسٹس، مشی گن اور ساؤتھ کیرولائنا بھی شدید متاثرہ ریاستوں میں شامل ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *