واشنگٹن (ویب ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے 2025 کا سال شدید بحرانوں اور ڈرامائی فیصلوں کا سال رہا ہے۔ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے اپنی صدارتی طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے ہیں جنہوں نے قانونی ماہرین اور عالمی برادری کو حیران کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے سال کے دوران کئی محاذوں پر سخت گیر پالیسیاں اپنائیں.
صدر نے سرحدوں پر ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا، جس میں قانونی تارکین وطن اور بعض صورتوں میں امریکی شہریوں کو بھی نشانہ بنانے کا عندیہ دیا گیا۔
ٹرمپ نے امریکہ کے تقریباً تمام تجارتی شراکت داروں بشمول کینیڈا، میکسیکو اور چین پر بھاری محصولات عائد کیے، جسے انہوں نے “قومی سلامتی کے لیے ناگزیر” قرار دیا۔
سال کے آخری مہینوں میں انہوں نے لاطینی امریکہ کے منشیات فروش گروہوں (Narcoterrorists) کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جنہیں انہوں نے امریکہ کی سلامتی کے لیے “تباہ کن ہتھیاروں” کے برابر قرار دیا۔
ٹرمپ نے پہلے ہی دن سے صدارتی حکم ناموں کے ذریعے سرحدوں پر فوج تعینات کرنے، وفاقی زمینوں پر قبضہ کرنے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر پابندیاں لگانے جیسے اقدامات کیے۔
ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول ہونے کی وجہ سے انہیں قانون سازی میں کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تاہم، نچلی عدالتوں نے کچھ اقدامات پر روک تھام کی کوشش کی ہے:
واشنگٹن ڈی سی میں “کرائم ایمرجنسی” کے نفاذ پر مقامی حکام نے اعتراض کیا ہے۔کیلیفورنیا اور الینوائے جیسے ریاستوں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کو عدالتوں نے محدود کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ جنوری 2026 میں ٹرمپ کے لگائے گئے محصولات (Tariffs) کی قانونی حیثیت پر اہم فیصلہ سنائے گی۔
عوامی سطح پر ٹرمپ کے ان اقدامات پر ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے۔ ایک حالیہ پول کے مطابق 54 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اپنے اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔
37 فیصد عوام ان کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں۔
2026 کے وسط مدتی (Midterm) انتخابات ٹرمپ کی ان پالیسیوں کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوں گے، جہاں ووٹرز یہ طے کریں گے کہ آیا وہ صدر کے اس اندازِ حکمرانی سے مطمئن ہیں یا نہیں۔
