ایچ۔ون بی ویزا نظام میں بڑی تبدیلی، زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ والوں کو ترجیح دی جائے گی

اقدام ایچ۔ون بی غیر مہاجر ویزا پروگرام کی شفافیت اور ساکھ کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے

Atif Khan

واشنگٹن :امریکی محکمۂ داخلی سلامتی (ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی) نے ایچ۔ون بی (H-1B) ورک ویزا کے انتخابی طریقۂ کار میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد امریکی کارکنوں کی اجرت، کام کے حالات اور روزگار کے مواقع کا بہتر تحفظ کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ویزوں کی تقسیم اب قرعہ اندازی (لاٹری) کے بجائے ایسے طریقۂ کار کے ذریعے کی جائے گی جس میں زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کو ترجیح دی جائے گی۔

امریکی شہریت و امیگریشن سروس (USCIS) کے ترجمان میتھیو ٹریگیسر نے کہا کہ موجودہ بے ترتیب انتخابی نظام کو بعض امریکی آجر استعمال کرتے رہے ہیں، جو امریکی کارکنوں کے مقابلے میں کم اجرت پر غیر ملکی کارکن لانا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا، ’’نیا وزنی انتخابی نظام کانگریس کے ایچ۔ون بی پروگرام سے متعلق اصل مقصد کو بہتر طور پر پورا کرے گا اور امریکی مسابقت کو مضبوط بنائے گا، کیونکہ اس سے آجر زیادہ تنخواہ اور زیادہ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے درخواست دینے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔‘‘

ہر سال جاری کیے جانے والے ایچ۔ون بی ویزوں کی تعداد 65 ہزار تک محدود ہے، جبکہ امریکی اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والوں کے لیے اضافی 20 ہزار ویزے مختص ہیں۔ ماضی میں اس نظام پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ کچھ آجر کم مہارت اور کم اجرت والے غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کرتے ہیں، جس سے امریکی افرادی قوت کو نقصان پہنچتا ہے۔

ان خدشات کے پیشِ نظر، نئے حتمی ضابطے کے تحت ایسا انتخابی نظام نافذ کیا جائے گا جس میں زیادہ تنخواہ اور زیادہ مہارت رکھنے والے امیدواروں کو ویزا ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے، تاہم تمام اجرتی سطحوں پر آجر کے لیے ایچ۔ون بی کارکن حاصل کرنے کا امکان برقرار رکھا جائے گا۔ یہ نیا قانون 27 فروری 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور مالی سال 2027 کے ایچ۔ون بی رجسٹریشن سیزن پر لاگو ہوگا۔

یہ اقدام ایچ۔ون بی غیر مہاجر ویزا پروگرام کی شفافیت اور ساکھ کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ انتظامیہ کی جانب سے کی گئی دیگر اصلاحات کے مطابق ہے، جن میں ایک صدارتی اعلامیہ بھی شامل ہے جس کے تحت آجر کو ہر ویزا کے لیے اضافی ایک لاکھ ڈالر ادا کرنا لازم ہوگا۔

میتھیو ٹریگیسر نے مزید کہا، ’’ٹرمپ انتظامیہ کے ایچ۔ون بی اصلاحاتی عزم کے تحت ہم آجرین اور غیر ملکی درخواست گزاروں دونوں سے زیادہ ذمہ داری کا تقاضا کرتے رہیں گے، تاکہ امریکی کارکنوں کو نقصان نہ پہنچے اور ’امریکہ فرسٹ‘ کے اصول کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *