صدر ٹرمپ کا ایرانی مظاہرین کوپیغام،”مددپہنچنےوالی ہے”

روس نے ایران کے اندرونی معاملات میں "تخریب کارانہ بیرونی مداخلت" کی شدید مذمت کی ہے۔

Editor News

واشنگٹن/تہران (رائٹرز): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایرانی مظاہرین کو احتجاج جاری رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مدد کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ حالیہ کریک ڈاؤن میں ہلاکتوں کی تعداد 2,000 تک پہنچ چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں لکھا:”ایرانی محبِ وطن شہریو! احتجاج جاری رکھو اور اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو!!!… مدد پہنچنے والی ہے۔”

انہوں نے مزید اعلان کیا کہ جب تک مظاہرین کا “بے حس قتلِ عام” بند نہیں ہو جاتا، وہ ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر چکے ہیں۔

ایک ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ملک گیر بدامنی میں تقریباً 2,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اہلکار نے ان ہلاکتوں کا ذمہ دار “دہشت گردوں” کو قرار دیا، تاہم ہلاک ہونے والوں کی تفصیلی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

صدر ٹرمپ نے پیر کی شام ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک کی مصنوعات پر 25 فیصد امپورٹ ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو سزا دینے کے لیے فوجی کارروائی کا آپشن بھی میز پر موجود ہے اور امریکی افواج “لاکڈ اینڈ لوڈڈ” (تیار) ہیں۔

روس نے ایران کے اندرونی معاملات میں “تخریب کارانہ بیرونی مداخلت” کی شدید مذمت کی ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کی جانب سے فوجی حملوں کی دھمکیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سلامتی کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے ایک سخت بیان میں کہا کہ ان کے خیال میں ایرانی حکومت کا خاتمہ قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حکومت کے آخری ایام اور ہفتے دیکھ رہے ہیں، اگر اسے طاقت کے زور پر اقتدار برقرار رکھنا پڑ رہا ہے تو یہ عملی طور پر اپنے اختتام پر ہے۔

چین نے امریکی ٹیرف کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ واضح رہے کہ ایران پر امریکی پابندیوں کے باوجود چین اس کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے برلن پر دوہرے معیار کا الزام لگایا اور کہا کہ ایسے بیانات سے جرمنی کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی ہے۔

معاشی بدحالی کے خلاف شروع ہونے والے یہ مظاہرے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایرانی حکمرانوں کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اندرونی چیلنج قرار دیے جا رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *