امریکی صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بڑی کمی: امیگریشن پالیسی پر عوامی غم و غصہ برقرار

گراوٹ کے باوجود، امیگریشن کے معاملے پر ریپبلکن پارٹی اب بھی ڈیموکریٹس سے بہتر پوزیشن میں نظر آتی ہے

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف عوامی ردعمل میں تیزی آگئی ہے۔ رائٹرز/ایپسوس کے تازہ ترین سروے کے مطابق، صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی حمایت اپنی کم ترین سطح پر آگئی ہے، اور امریکیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ ان کا کریک ڈاؤن حد سے تجاوز کر چکا ہے۔

حالیہ پول کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ منی ایپلس میں احتجاجی مظاہروں کے دوران امیگریشن افسران کے ہاتھوں امریکی شہریوں کی ہلاکت نے عوامی رائے عامہ کو بری طرح متاثر کیا ہے.

صرف 39% امریکیوں نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی حمایت کی، جبکہ 53% نے اسے مسترد کر دیا۔ (یاد رہے کہ فروری میں یہ حمایت 50% تھی)۔

صدر ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت گر کر 38% رہ گئی ہے، جو ان کی موجودہ مدتِ صدارت کی کم ترین سطح ہے۔

58% جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ امیگریشن ایجنٹ اپنے اقدامات میں “بہت آگے” نکل گئے ہیں۔

سروے میں سیاسی وابستگی کے لحاظ سے واضح فرق دیکھا گیا:

ڈیموکریٹس: 10 میں سے 9 افراد کا خیال ہے کہ کارروائیاں حد سے زیادہ ہیں۔

ریپبلکنز: 10 میں سے صرف 2 افراد اس رائے سے متفق ہیں۔

آزاد ووٹرز: 10 میں سے 6 افراد کریک ڈاؤن کو غلط سمجھتے ہیں۔

یہ سروے ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب منی ایپلس میں دو امریکی شہریوں، 37 سالہ نرس ایلکس پریٹی اور رینی گُڈ، کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔ اگرچہ حکام نے ایلکس پر افسران پر حملے کا الزام لگایا، لیکن عینی شاہدین کی ویڈیوز اس بیان کے برعکس حقائق دکھاتی ہیں۔

اس صورتحال نے ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ریاست منیسوٹا کے گورنر کے ریپبلکن امیدوار کرس میڈل نے اپنی انتخابی مہم سے دستبردار ہوتے ہوئے کہا کہ اس کریک ڈاؤن نے ریپبلکنز کے لیے جیتنا ناممکن بنا دیا ہے۔

گراوٹ کے باوجود، امیگریشن کے معاملے پر ریپبلکن پارٹی اب بھی ڈیموکریٹس سے بہتر پوزیشن میں نظر آتی ہے:

37% لوگ سمجھتے ہیں کہ ریپبلکن پارٹی کے پاس امیگریشن کا بہتر حل ہے۔

32% لوگ ڈیموکریٹس کے حق میں ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *